سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 436
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم ہوا ہے۔“ 66 404 ”اور میں گن نہیں سکتا کہ یہ الہام مجھے کتنی مرتبہ ہوا ہے۔ بہت ہی کثرت سے پس فتح چاہتے ہو تو متقی بنو۔ اگر ہم نری باتیں ہی باتیں کرتے ہیں تو یاد رکھو کچھ فائدہ نہیں ہے۔ فتح کے لئے ضرورت ہے تقویٰ کی۔ فتح چاہتے ہو تو متقی بنو۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 232 ایڈیشن 1984ء) پس فتح تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملنی ہے ان شاء اللہ ۔ اگر ہم نے اس فتح کا حصہ بنا ہے تو ہمیں تقویٰ پر چلنا ہو گا۔ اپنے قول و فعل کو ایک کرنا ہو گا۔ پھر آپ نے فرمایا: فتح اسی کو ملتی ہے جس سے خدا خوش ہو ۔ اس لئے ضروری امر یہ ہے کہ ہم اپنے اخلاق اور اعمال میں ترقی کریں اور تقویٰ اختیار کریں۔“ اعمال اور اخلاق میں ترقی بھی خدا کو خوش کرنے کے لئے ضروری ہے اور یہی تقویٰ ہے۔ تقویٰ اختیار کریں۔ تاکہ خدا تعالیٰ کی نصرت اور محبت کا فیض ہمیں ملے۔ پھر خدا کی مدد کو لے کر ہمارا فرض ہے اور ہر ایک ہم میں سے جو کچھ کر سکتا ہے اس کو لازم ہے کہ وہ ان حملوں کے جواب دینے میں کوئی کو تاہی نہ کرے۔ ہاں جواب دیتے وقت نیت یہی ہو کہ خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو ۔ “ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 233 ایڈیشن 1984ء) خدا تعالیٰ کے جلال کو ظاہر کرنا ہے۔ یہ ہمارا مقصد ہے دنیا میں۔ اس کی وحدانیت کو دنیا میں قائم کرنا ہے۔ اپنی ترجیح دین کو دنیا پر مقدم کرنا بنا لیں پس آج ہر ناصر کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم کرنے اور اس کے جلال کو ظاہر کرنے کے لئے اپنے تقویٰ کے معیاروں کو بلند کرے گا، ان لوگوں میں شامل ہو گا جو دنیا کے لوگوں پر احسان کرتے ہیں اور جو دنیا کی غلاظتوں میں گھرے ہوئے ہیں ، انہیں احسان کرتے ہوئے غلاظتوں سے باہر نکالتے ہیں اور جب اس بات کا ہم عہد کریں گے کہ ہم نے