سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 435
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 403 اس اعزاز اور شرف کو حاصل کرنے کی شرط تقویٰ ہے۔ اور جب تقویٰ پیدا ہو جائے گا تو پھر اللہ تعالیٰ کی نظر میں یقیناً اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ انصار اللہ کہلائیں اور دنیا میں توحید کے پھیلانے والے بنیں۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت و تبلیغ میں اپنا کردار ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے بنیں۔ فتح چاہتے ہو تو متقی بنو پھر یہ بات ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے والے ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ اس بیعت کا حق ادا کرتے ہوئے آپ علیہ السلام کے مشن کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کرے لیکن انصار اللہ کو سب سے زیادہ اپنے آپ کو اس کا مخاطب سمجھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ وعدہ ہے کہ وہ آپ کے مشن کو پورا کرے گا۔ آپ کی دعاؤں کو سنے گا اور آپ کے ذریعہ سے تکمیل اشاعت اسلام ہو گی۔ ہم خوش قسمت ہوں گے اگر ہم اللہ تعالیٰ کے اس وعدے سے فیض اٹھانے والے بنیں گے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان فیض اٹھانے والوں اور فتح حاصل کرنے والوں کے لئے جو شرط رکھی ہے وہ تقویٰ ہے۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے ایک موقع پر جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: یہ زمانہ جنگ و جدل کا نہیں ہے بلکہ قلم کا زمانہ ہے۔ پھر جب یہ بات ہے تو یاد رکھو کہ کار حقائق اور معارف کے دروازوں کے کھلنے کے لئے ضرورت ہے تقویٰ کی۔“ حقائق و معارف کے دروازوں کے کھلنے کے لئے ضرورت ہے تقویٰ کی۔ اس لئے تقویٰ اختیار کرو کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ (النحل: 129) ہیں۔ فرمایا: یقینا اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو احسان کرنے والے