سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 437
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 405 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو پورا کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنی ہے اور دنیا میں توحید قائم کرنی ہے۔ اسلام کے پیغام کو ہر شخص تک پہنچانا ہے تو پھر خود ہمیں کس فکر کے ساتھ اپنی حالتوں کو بہتر کرنے کی ضرورت ہو گی۔ ہمیں خود کس قدر تقویٰ پر چلنے کی ضرورت ہو گی۔ ہمیں گھروں میں اپنے بیوی بچوں کو کس قدر توحید پر چلانے کے لئے اپنے عملی نمونوں کی ضرورت ہو گی۔ ہمیں کسی فکر کے ساتھ اپنی نمازوں کو سنوارنے کی ضرورت ہو گی۔ کس فکر سے تعلق باللہ کے معیاروں کو بلند کرنے کی ضرورت ہو گی۔ چالیس سال کی عمر کو پہنچنے والا عاقل بالغ خود اس بات کا جائزہ لے سکتا ہے جو باتیں میں نے کہی ہیں۔ پس اگر ضرورت ہے تو اس بات کی کہ ہم اپنی ترجیحات کو دنیا کے گرد گھمانے کی بجائے اپنی بیعت کے مقصد کو سمجھتے ہوئے اپنے عہد کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی ترجیح دین کو دنیا پر مقدم کرنا بنالیں۔ اسلام کا جھنڈا بلند کرنے کی ذمہ داری انصار اللہ کی بھی ذمہ داری ہے گذشتہ ہفتہ میں نے خدام الاحمدیہ سے عہد لیا تھا اور جیسا کہ میں نے شروع میں بیان کیا خدام کا کام تو زیادہ خدمت خلق تھا جو ان کے ذمہ لگایا گیا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اسلام کا جھنڈا بلند کرنے کی ذمہ داری بھی ان کے سپرد کی گئی لیکن یہ انصار اللہ کی بھی ذمہ داری ہے اور جو لوگ عمر کے لحاظ سے انتہائی تجربہ اور بالغ سوچ کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ یہ زیادہ بڑی ذمہ داری ہے آپ کی کہ اس کام کو سر انجام دیں اور اپنے انصار اللہ ہونے کے نام کی لاج رکھیں اور اپنے عہد کو پورا کرنے والے ہوں۔ یہ ہو گا تو تبھی ہم کامیاب ہوں گے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔ عہد یہ عہد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس کا میں نے ذکر کیا جب خدام الاحمدیہ سے لیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ انصار اللہ میں بھی دہرایا جائے اور ہر موقع پر دہرایا جائے۔ پہلے مجھے خیال آیا تھا دہرانے کا پھر میں نے سوچا کہ پچھلے ہفتے دہرا دیا ہے اس لئے