سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 432
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم فرمایا کہ: 400 اگر ہماری جماعت بھی خدا نخواستہ ایسی ہے کہ اس کی زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ ہے تو پھر خاتمہ بالخیر نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ جب دیکھتا ہے کہ ایک جماعت جو دل سے خالی ہے اور زبانی دعوے کرتی ہے۔ وہ غنی ہے وہ پر واہ نہیں کرتا۔“ فرمایا: بدر کی فتح کی پیشگوئی ہوچکی تھی۔ ہر طرح فتح کی امید تھی لیکن پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رو رو کر دعا مانگتے تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق نے عرض کیا کہ جب ہر طرح فتح کا وعدہ ہے تو پھر ضرورت الحاح کیا ہے ؟“ اتنی رونے اور زاری کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ذات غنی ہے یعنی ممکن ہے کہ وعدہ الہی میں کوئی مخفی شرائط ہوں۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 11 ایڈیشن 1984ء) اللہ تعالیٰ غنی ہے۔ ہو سکتا ہے کوئی مخفی شرائط ہوں اگر وہ پوری نہ کی جائیں۔ اس لئے ان کو پورا کرنے کے لئے دعا ضروری ہے۔ ہمارے ذمہ اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا کام لگایا ہے پس بڑے خوف کا مقام ہے۔ انصار جنہوں نے یہ عہد بھی کیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے اور اپنی اولادوں کو بھی دین سے جوڑے رکھیں گے ان کو ہر وقت اس فکر میں رہنا چاہیے کہ اپنے ایسے نمونے قائم کریں جو عبادتوں کے بھی اعلیٰ معیار ظاہر کرنے والے ہوں اور عملی حالتوں کے بھی اعلیٰ معیار حاصل کرنے والے ہوں تا کہ ہم اپنے بیوی بچوں کے لئے نمونہ ہوں۔ اگر نہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو انذار فرمایا ہے وہ دل کو ہلا دینے والا ہے۔ پس ہمیں بہت فکر کرنی چاہیے ۔ ہمارے ذمہ اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا کام لگایا ہے کہ ہم نے صرف اپنی اور اپنی اولاد کی اصلاح نہیں کرنی۔ صرف اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو ہی توحید پر قائم نہیں کرنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کے تابع نہیں رکھنا بلکہ دنیا کو