سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 433
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 401 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لے کر آنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں قائم کرنا ہے۔ پس جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہماری راہنمائی فرمائی ہے اور مختلف موقعوں پر جو ہمیں نصائح فرمائی ہیں اس کی جگالی کرتے رہنا چاہیے ، اس کو یاد رکھنا چاہیے۔ اپنی زندگی کو ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے تبھی ہم کامیاب انصار بن سکتے ہیں۔ فلاح دارین حاصل کرنے کے طریق 66 حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر تم چاہتے ہو کہ تمہیں فلاح دارین حاصل ہو “ نہ کی، دونوں جہان کی فلاح پاؤ۔ اور لوگوں کے دلوں پر فتح پاؤ تو پاکیزگی اختیار کرو۔ عقل سے کام لو اور کلام الہی کی دو ہدایات پر چلو۔ خود اپنے تئیں سنوارو اور دوسروں کو اپنے اخلاق فاضلہ کا نمونہ دکھاؤ۔“ پس عقل استعمال کرو اور عقل آتی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ جو حقیقی عقل ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اور اس عقل کو حاصل کرنے کے لئے کلام الہی یعنی قرآن کریم کو پڑھنا اور اس کو سمجھنا اور اس کی ہدایات پر چلنا ضروری ہے اور پھر ساتھ ہی فرمایا کہ عملی حالتیں بھی اپنے اندر پیدا کرو۔ تمہارے اخلاق بھی اعلیٰ ہوں۔ فرمایا: تب البتہ کامیاب ہو جاؤ گے ۔ “ (ملفوظات جلد اول صفحہ 67 ایڈیشن 1984ء) یہ باتیں ہوں گی تو پھر کامیابی ہو جائے گی۔ صرف دعوے نہیں، صرف کھوکھلے نعرے نہیں۔ پس اگر ہم نے دنیا و آخرت میں خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنا ہے جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اور جس کے لئے ہم آپ علیہ السلام کی بیعت میں آئے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو دنیا میں لہرانا۔ تو اپنے دلوں کو پاکیزہ بنانا ہو گا اور دلوں کی پاکیزگی کے لئے تقویٰ ضروری ہے اور تقویٰ کے راستے تلاش کرنے کے لئے قرآن کریم کو پڑھنا اور سمجھنا ضروری ہے۔ پس انصار کا ایک یہ بھی کام ہے کہ قرآن کریم کو تدبر اور غور سے پڑھیں اور اس کے