سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 431 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 431

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 399 دعائیں اور عملی حالتیں تبلیغ کے لئے بھی نئے راستے کھولیں گی۔ اور عملی حالتوں کے لئے ان تمام باتوں کا نمونہ بننے کی ضرورت ہے جن کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جماعت سے توقع کی ہے اور نصائح فرمائی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا کہ : ”ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ ایک نمونہ بنانا چاہتا ہے۔“ پس ہر لحاظ سے یہ نمونے قائم کرو۔ آپ فرماتے ہیں کہ : دو اللہ تعالیٰ متقی کو پیار کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی عظمت کو یاد کر کے سب ترساں رہو۔“ خوفزدہ رہو۔ اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا کرو۔ اور یاد رکھو کہ سب اللہ کے بندے ہیں۔“ اپنے اندر عاجزی انکساری پیدا کرو۔ 66 کسی پر ظلم نہ کرو۔ نہ تیزی کرو۔ نہ کسی کو حقارت سے دیکھو۔ جماعت میں اگر ایک آدمی گندہ ہوتا ہے تو وہ سب کو گندہ کر دیتا ہے ۔ “ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 9ایڈیشن 1984ء) تمہارے قول و فعل ایک ہونے چاہئیں آپ نے فرمایا کہ تمہارے قول و فعل ایک ہونے چاہئیں۔ فرماتے ہیں: اللہ کا خوف اسی میں ہے کہ انسان دیکھے کہ اس کا قول و فعل کہاں تک ایک دوسرے سے مطابقت رکھتا ہے۔ پھر جب دیکھے کہ اس کا قول و فعل برابر نہیں تو سمجھ لے کہ وہ موردِ غضب الہی ہو گا۔“ فرمایا: جو دل نا پاک ہے خواہ قول کتنا ہی پاک ہو وہ دل خدا کی نگاہ میں قیمت نہیں پاتا ۔۔۔ پس میری جماعت سمجھ لے کہ وہ میرے پاس آئے ہیں اسی لئے کہ تخم ریزی کی جاوے جس سے وہ پھلدار درخت ہو جاوے۔ پس ہر ایک اپنے اندر غور کرے کہ اس کا اندرونہ کیسا ہے اور اس کی باطنی حالت کیسی ہے۔ اگر ہماری جماعت بھی خدا نخواستہ ایسی ہے۔“ 66