سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 430
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم فرمایا: 398 اور پھر میں اصل ذکر کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ نماز کی لذت اور سرور اسے حاصل نہیں ہو سکتا۔ مدار اسی بات پر ہے کہ جب تک بُرے ارادے، ناپاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں۔“ نماز میں لذت اور سرور اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک بُرے ارادے اور ناپاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہو جائیں، جل کے خاک نہ ہو جائیں۔ انانیت اور شیخی دور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آ جائے خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا اور عبودیت کاملہ کے سکھانے کے لئے بہترین معلم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے۔“ پس اپنی انانیت کو، اپنے تکبر کو، اپنے ناپاک منصوبوں کو ، اپنے غلط خیالات کو دلوں میں ، سے نکالو گے تو پھر ہی نمازوں کی طرف بھی صحیح توجہ پیدا ہو گی اور جب ایسی نمازیں ہوں گی تو پھر خود بخود انسان کی تربیت بھی ہوتی چلی جائے گی۔ فرمایا: میں تمہیں پھر بتلاتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کار بند ہو جاؤ اور ایسے کار بند بنو کہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری روح کے ارادے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں ۔ “ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 170 ایڈیشن 1984ء) صرف عملی حرکتیں نہیں۔ نماز کی حالتوں میں سجدہ کرنا، کھڑے ہونا، بیٹھنا، یہی باتیں نہ ہوں، صرف زبان سے سورت فاتحہ یا آیات اور دعائیں نہ ہو رہی ہوں بلکہ روح سے یہ عمل ظاہر ہو رہے ہوں تب یہ نمازیں حقیقی نمازیں ہوں گی۔ پس یہ وہ اہم کام ہے جس کو انصار اللہ کو سب سے زیادہ مقدم رکھنا چاہیے۔ اگر ہماری عبادتیں اور نمازیں اللہ تعالیٰ کے معیار کے مطابق نہیں ہیں تو ہمارا اللہ تعالیٰ کے انصار ہونے کا دعویٰ کھو کھلا دعویٰ ہے۔ پس جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا انصار اللہ کو سب سے پہلے اس لحاظ سے اپنے جائزے لینے چاہئیں اور اپنے تعلق باللہ کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے پھر ہی اللہ تعالیٰ وہ حالات بھی پیدا فرمائے گا جو انقلابات لاتے ہیں اور انصار کی