سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 429
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 397 کرتی ہے یا دوسرے مقام پر فرمایا ہے نماز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں۔“ فرمایا کہ: اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں مگر نہ روح اور راستی کے ساتھ وہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکریں مارتے ہیں۔ ان کی روح مردہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام حسنات نہیں رکھا اور یہاں جو حسنات کا لفظ رکھا الصلوٰۃ کا لفظ نہیں رکھا باوجو دیکہ معنی وہی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ تا نماز کی خوبی اور حسن و جمال کی طرف اشارہ کرے۔“ اس لئے حسنات نام رکھا ہے، صلوٰۃ نہیں رکھا۔ کہ وہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی روح رکھتی ہے اور فیض کی تاثیر اس میں موجود ہے وہ نماز یقیناً یقیناً برائیوں کو دور کرتی ہے۔ نماز نشست و برخاست کا نام نہیں ہے۔“ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 163-164 ایڈیشن1984ء) پس یہ وہ نمازیں ہیں جو ہمیں پڑھنے کی ضرورت ہے۔ یہ وہ نمازیں ہیں جو اگر ہم پڑھیں گے تو جہاں اپنے آپ کو برائیوں سے دُور کر کے خدا تعالیٰ سے ایک خاص تعلق پیدا کرنے والے بن جائیں گے وہاں اپنی اولادوں کا بھی زندہ خدا سے تعلق پیدا کرنے والے بن جائیں گے ، اس کا ذریعہ بن جائیں گے اور یوں اپنی نسلوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہوں گے ، انہیں بھی برائیوں سے بچانے والے ہوں گے ، ان کے اندر بھی دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی روح پیدا کرنے والے ہوں گے اور دین کے حقیقی انصار کا حق ادا کرنے والے ہوں گے ۔ نماز کی اہمیت اور حقیقت نماز کی اہمیت اور حقیقت پر زور دیتے ہوئے ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں یوں نصیحت فرمائی۔ فرمایا کہ : ”جب تک انسان کامل طور پر توحید پر کار بند نہیں ہوتا اس میں اسلام کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی۔“