سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 428
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم دو آپ نے فرمایا کہ: 396 پچاسواں حصہ بھی تو پوری مستعدی اور سچی محبت سے اپنے مولا حقیقی کے حضور سر نہیں جھکاتا۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 162 ایڈیشن 1984ء) پس ہمارا پہلا کام یہ ہے کہ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے جھکیں۔ ایک سوز اور رفت سے اس سے دعائیں مانگیں تو پھر ایسی حالت پیدا ہو جائے گی کہ نمازوں سے غفلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہو گا۔ اور پھر جب یہ حالت ہو گی تو ہم عملی طور پر ان لوگوں کے سوال کا جواب دینے والے ہو جائیں گے جو کہتے ہیں کہ بعض لوگ نمازیں پڑھتے ہیں اور پھر بدیاں کرتے ہیں، برائیاں کرتے ہیں۔ وہ نمازیں پڑھتے ہیں تو صرف ایک خانہ پری کے لئے۔ ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت رکھے بغیر اور نماز کا حق ادا کئے بغیر نماز پڑھتے ہیں اور برائیوں میں مبتلا ہیں یا دوسروں کا حق ادا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ نے خود کہہ دیا ہے کہ ان کی نمازیں ان کے لئے ہلاکت ہیں اور ان کے منہ پر ماری جاتی ہیں۔ پس ہماری نمازیں رپورٹ فارم پر کرنے کے لئے یالوگوں کے دکھاوے کے لئے یا رسمی طور پر نہیں ہونی چاہئیں بلکہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی محبت کے لئے ہونی چاہئیں۔ ایسی نمازیں ہی ہیں جو پھر پھل پھول لاتی ہیں۔ وہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی روح رکھتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ الشَّيَاتِ (هود: 115) نیکیاں بدیوں کو زائل کر دیتی ہیں۔ پس ان حسنات کو اور لذات کو دل میں رکھ کر دعا کرے کہ وہ نماز جو کہ صدیقوں اور محسنوں کی ہے وہ نصیب کرے۔“ آپ نے فرمایا: دو اس طرح دعا کرو کہ جو صدیقوں اور محسنوں کی نماز ہے وہ اللہ تعالیٰ نصیب کرے۔“ فرمایا کہ: یہ جو فرمایا ہے اِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاتِ یعنی نیکیاں یا نماز بدیوں کو ڈور