سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 427
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 395 انصار اللہ کی عمر تو ایسی ہے جیسا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نماز اور ذکر الہی کی طرف توجہ دینی چاہیے لیکن اس جائزے میں آپ کے سامنے یہ بات آجائے گی کہ ہماری حالت میں بہت کمزوری ہے۔ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی ہے، اس بات پر بیعت کی ہے کہ خدا تعالیٰ کی حکومت کو دنیا میں قائم کریں گے۔ شیطان کی حکومت کو دنیا سے مٹائیں گے۔ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے تو کیا پھر اللہ تعالیٰ کے حکموں اور فرائض جو ہمارے ذمے ڈالے گئے ہیں ان پر عمل کیے بغیر ہم یہ مقصد حاصل کر سکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں ! پس اس طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے متعدد جگہ اپنی جماعت کو اس طرف توجہ دلائی ہے۔ آپ علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا: نمازوں کو با قاعدہ التزام سے پڑھو۔ بعض لوگ صرف ایک ہی وقت کی نماز پڑھ لیتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ نمازیں معاف نہیں ہوتیں یہاں تک کہ پیغمبروں تک کو معاف نہیں ہوئیں۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نئی جماعت آئی۔ انہوں نے نماز کی معافی چاہی۔ آپ نے فرمایا کہ جس مذہب میں عمل نہیں وہ مذہب کچھ نہیں۔ اس لئے اس بات کو خوب یاد رکھو اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق اپنے عمل کر لو۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 263 ایڈیشن 1984ء) پس ایسے لوگ جو بعض دفعہ میرے پاس بھی آتے ہیں اور آکر کہہ دیتے ہیں کہ ہم کوشش کرتے ہیں کہ پانچ نمازیں پڑھیں لیکن چھوٹ جاتی ہیں۔ ان کو بہت فکر کی ضرورت ہے۔ خود اپنے نمونے قائم نہیں کریں گے تو اولا دیں کس طرح دین پر قائم ہوں گی۔ پھر اگر اولاد بگڑ جاتی ہے تو شکوہ نہیں ہونا چاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ : لوگ نمازوں میں غافل اور سست اس لئے ہوتے ہیں کہ ان کو اس لذت اور سرور سے اطلاع نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نماز کے اندر رکھا ہے اور بڑی بھاری وجہ اس کی یہی ہے۔“ 66