سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 426
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم اپنی عبادت کے معیار کو بڑھانا ہے 394 پس اس حقیقت کو ہر ناصر کو سمجھنا چاہیے کہ اس نے اپنی عبادت کے معیار کو بڑھانا ہے۔ اپنی نمازوں کی حفاظت کرنی ہے۔ باجماعت نماز کی طرف توجہ دینی ہے۔ گھروں میں اپنی اولاد کے سامنے اپنی عبادت کے معیار کے نمونے قائم کرنے ہیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال دی ہے کہ ان کی قرآن کریم میں یہی خوبی بیان کی گئی ہے کہ آپ اپنی اولاد کو ہمیشہ نماز کی تلقین کرتے رہتے تھے اور یہی اصل خدمت اور انصار اللہ کا فرض ہے۔ خود بھی نماز اور ذکر الہی کی طرف توجہ کریں اور اپنی اولاد کو بھی نماز اور ذکر الہی کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔ جب تک جماعت میں یہ روح پیدا ر ہے گی اور خدا تعالیٰ کے ساتھ لوگوں کا تعلق رہے گا اللہ تعالیٰ کے فضل بھی نازل ہوتے رہیں گے۔ خدا تعالیٰ کے فرشتوں سے بھی تعلق قائم رہے گا۔ اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق قائم رہے گا اور نتیجہ جماعت بھی زندہ رہے گی۔ (ماخوذ از مجلس انصاراللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع سے خطاب، انوار العلوم جلد 26 صفحہ 355-356) پس اگر ہم اپنی زندگی اور اپنی اولاد کی زندگی چاہتے ہیں ، اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو دنیا کی غلاظتوں سے بچانا چاہتے ہیں تو اس طرف خاص توجہ دینی ہو گی ورنہ ہمارا نعرہ نَحْنُ أَنْصَارُ اللہ کا کھو کھلا نعرہ ہے۔ اگر ہمارا خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں تو ہم خدا تعالیٰ کے مسیح کی جماعت کے مددگار نہیں بن رہے بلکہ اس کو کمزور کرنے والے بن رہے ہیں۔ ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے پس اس لحاظ سے ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ اپنی نمازوں اور ذکر الہی کے معیار کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اپنے بچوں کو بھی اس طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔ ہر جگہ آپ یہ جائزہ لے لیں۔