سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 425
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 393 انصار اللہ کا نام رکھنے کی وجہ دین کی خدمت کی طرف توجہ دلانا ہے تشهد و تعوذ کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آج انصار الله یو کے کا اجتماع اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ اسی طرح فرانس اور امریکہ میں بھی اجتماع ہو رہا ہے اور ان کے اجتماع کا بھی آج آخری دن ہے ، آخری سیشن ہے۔ شاید امریکہ کا نہ ہو لیکن بہر حال ان کا آخری دن ہے۔ بہر حال کہیں اجتماع ہو رہے ہیں یا نہیں ہو رہے اب ایم ٹی اے نے تمام دنیا کے احمدیوں کو اس طرح ایک کر دیا ہے کہ ان تقریبات میں احباب شامل ہوتے ہیں اور آج کی اس تقریب کو دنیا میں بہت سے انصار دیکھ اور سن رہے ہوں گے۔ پس یوکے کے انصار کے اجتماع کے ذریعے تمام دنیا کے انصار یہ تقریب دیکھ اور سن رہے ہیں اس لئے آج کی باتوں کے سبھی انصار مخاطب ہیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنہوں نے انصار اللہ کی تنظیم کو شروع فرمایا تھا ایک موقع پر انصار کو مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ آپ کا نام انصار اللہ سوچ سمجھ کر رکھا گیا ہے۔ پندرہ سے چالیس سال تک کی عمر کا زمانہ جوانی اور امنگ کا زمانہ ہوتا ہے اس لئے اس عمر کے افراد کا نام خدام الاحمد یہ رکھا گیا ہے تا کہ خدمت خلق کے سلسلے میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کریں اور چالیس سال سے اوپر والوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا ہے اس عمر میں انسان اپنے کاموں میں استحکام پیدا کر لیتا ہے اور اگر وہ کہیں ملازم ہو تو ملازمت میں ترقی کر لیتا ہے اور وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے سرمائے سے دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکے ۔ پس آپ کا نام انصار اللہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ جہاں تک ہو سکے آپ دین کی خدمت کی طرف توجہ کریں اور یہ توجہ مالی لحاظ سے بھی ہے اور دینی لحاظ سے بھی ہوتی ہے۔ دینی لحاظ سے آپ لوگوں کا فرض ہے کہ آپ زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں صرف کریں اور اپنے عمل سے بھی اور پیغام پہنچا کر بھی دین کا چر چا زیادہ سے زیادہ کریں تا کہ آپ کو دیکھ کر آپ کی اولادوں میں بھی نیکی پیدا ہو جائے۔