سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 424
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 392 انسان کی پیدائش میں دو قسم کے حسن ہیں۔ ایک حسن معاملہ اور وہ یہ کہ انسان خدا تعالیٰ کی تمام امانتوں اور عہد کے ادا کرنے میں یہ رعایت رکھے کہ کوئی امر حتی الوسع ان کے متعلق فوت نہ ہو۔“ 66 امانتوں کے حق ادا کرنے میں کوئی عمل ضائع نہ ہو۔ دو دو فرمایا: ایسا ہی لازم ہے۔“ 66 ایسا ہی لازم ہے کہ انسان مخلوق کی امانتوں اور عہد کی نسبت بھی یہی لحاظ رکھے۔ یعنی حقوق اللہ اور حقوق عباد میں تقویٰ سے کام لے یہ حسن معاملہ ہے یا یوں کہو کہ روحانی خوبصورتی ہے۔“ (ضمیمہ براہین ا براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 218) پس ہر عہدیدار کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم نے اپنے اندر روحانی خوبصورتی پیدا کرنی ہے۔ ہم خاص طور پہ عہدیدار سب سے زیادہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان باتوں کے مخاطب ہیں۔ ہر احمدی تقویٰ پر چلنے اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کرتا ہے لیکن عہدیداروں اور وہ جن کے سپر د جماعتی خدمات ہیں وہ سب سے زیادہ اس بات کے مخاطب اور ذمہ دار ہیں کہ اپنے عہدوں اور امانتوں کی حفاظت کریں، جو ہمارے سپر د ذمہ داریاں ہیں انہیں تقویٰ سے کام لیتے ہوئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اگست 2023ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل 8 ستمبر 2023ء صفحہ 2-7)