سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 423
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 391 اصول کے طور پر سامنے رکھنی چاہیے۔ پس یہی وہ طریق ہے جس سے عہدیدار جماعت کے افراد کی خدمت کا حق ادا کر سکتے ہیں اور ان کے ایمان کی حفاظت میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں اور جماعت کی اکائی کو قائم رکھنے میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اور اپنی امانتوں کے بھی حق ادا کر سکتے ہیں اور جب یہ ہو گا تو ایک ایسا حسین معاشرہ پیدا ہو گا جو صحیح اسلامی معاشرہ ہے اور جس کے قائم کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے تھے اور ہم نے ان کو مان کر عہد بیعت کیا ہے۔ پس ہمیشہ عہدیدار یہ بات یاد رکھیں کہ افراد جماعت نے انہیں منتخب کیا ہے یا آئندہ کریں گے تو اس لئے کہ وہ اپنی امانتوں کا حق ادا کریں لیکن اگر انہوں نے اپنی سوچ کے ساتھ ، منتخب کرنے والوں نے اپنی سوچ کے ساتھ انتخاب نہیں بھی کیا تو اب عہدیداروں کا کام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سپر د جو امانتیں کر دی ہیں ان کا حق ادا کریں اور اپنے فرائض نیک نیتی سے ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ادا کریں۔ خلیفہ وقت کا سلطان نصیر بنتے ہوئے ادا کریں۔ حتی الوسع لوگوں کے ایمانوں کی مضبوطی اور ان کو فائدہ پہنچانے کے لئے ادا کریں اور جب یہ سوچ رکھیں گے اور اس سوچ کے ساتھ اپنے فرائض ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کے کاموں میں بھی برکت ڈالے گا اور ہر موقع پر معین و مددگار بھی ہو گا۔ اگر یہ نہیں تو ہم تقویٰ سے دور ہٹنے والے ہوں گے ۔ خدا تعالیٰ سے بھی خیانت کر رہے ہوں گے ، خلیفہ وقت سے بھی خیانت کر رہے ہوں گے اور جن لوگوں نے اعتماد کیا تھا صحیح یا غلط ان کے ایمانوں کو بھی نقصان پہنچانے والے ہوں گے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دو ” مومن وہ ہیں جو اپنی امانتوں اور عہدوں کی رعایت رکھتے ہیں یعنی ادائے امانت اور ایفائے عہد کے بارے میں کوئی دقیقہ تقویٰ اور احتیاط کا باقی نہیں چھوڑتے۔“ (ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ یم، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 239-240) پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں: