سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 422 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 422

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 390 ضروریات کا خیال رکھنے کا کام ہے کہ اگر انہوں نے اپنے کام میں سستی دکھائی اور لوگوں کے حق ادانہ کئے تو نہ صرف اپنی امانتوں میں خیانت کرنے والے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں بھی آنے والے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ جو امام ، اس سے مراد ہر عہدیدار ہے ، حاجت مندوں، ناداروں اور غریبوں کے لئے اپنا دروازہ بند رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ضروریات کے لئے آسمان کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔(سنن الترمذی ابواب الاحكام باب ما جاء فى امام الرعية حديث (1332) پس اگر کوئی ایسا سوچ رکھنے والا عہد یداریا ان کے دفتر میں کام کرنے والے کارکن ہیں تو اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے لوگوں کی حاجتیں پوری کرنے میں جلدی کیا کریں یا کم از کم جلد رپورٹ دیا کریں، پھر مرکز کا کام ہے کہ جائزہ لے کر دیکھے کہ کس حد تک یہ حاجت پوری کی جا سکتی ہے لیکن جواب ہی نہ دینا اور درخواست کو ایک کونے میں رکھ دینا یہ بہت بڑا جرم ہے۔ پس ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی حتی المقدور کوشش کریں۔ ہر نیک کام کرنے کی طرف توجہ رکھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں بھی تم ہو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اگر کوئی برا کام کرو تو اس کے بعد نیک کام کرنے کی کوشش کرو۔ یہ نیکی بدی کو مٹا دے گی اور لوگوں سے خوش اخلاقی اور حسن سلوک سے پیش آؤ۔ (سنن الترمذی ابواب البر والصلة باب ما جاء فى معاشرة الناس حديث (1987) آسانی پیدا کرنا۔ مشکلیں نہ پیدا کرنا۔ محبت و خوشی پھیلانا اور نفرت نہ پہنچنے دینا اسی طرح ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ اور معاذ بن جبل کو یمن کے دو علیحدہ حصوں کی طرف والی مقرر کر کے بھیجا تو یہ نصیحت فرمائی کہ آسانی پیدا کرنا۔ مشکلیں نہ پیدا کرنا۔ محبت و خوشی پھیلانا اور نفرت نہ پہنچنے دینا۔ (صحیح البخاري كتاب المغازی باب بعث ابی موسیٰ و معاذ الى اليمن حديث 4341 ، 4342) پس یہ وہ نصیحت ہے جو ہر عہدیدار کو جو لوگوں سے زیادہ واسطہ رکھتا ہے اپنے لئے راہنما