سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 421
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 389 کریں گے وہاں لوگوں کے ایمان بچانے کی بھی کوشش کریں گے اور یہ کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے لوگوں کی حاجتیں پوری کرنے میں جلدی کیا کریں بعض دفعہ عہدیداروں کے رویے نظام کے بارے میں بدظنیاں پیدا کر دیتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اگر کسی نے اپنی ضرورت کے لئے خلیفہ وقت کو درخواست دی ہے تو صدر جماعت یا امیر جماعت یا امور عامہ یا اگر کسی خاص شعبے سے متعلق ہے تو اس کے کام کرنے والے اس شخص سے سختی کرتے ہیں کہ ہمارے ذریعے سے کیوں نہیں درخواست دی۔ اور معاملہ لٹک جاتا ہے بجائے اس کے کہ اگر مرکز سے ان کو رپورٹ کے لئے کہا گیا ہے تو فوری رپورٹ بھجوائیں۔ پھر جب جواب نہیں جاتے تو اس شخص کو بد ظنی پیدا ہو جاتی ہے اور براہ راست لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ ہماری درخواستیں نہیں پہنچتیں۔ جن درخواستوں پر جب لمبا عرصہ کارروائی نہیں ہوتی تو ان کو خاص طور پر بدظنی پیدا ہوتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ خلیفہ وقت کو ہماری درخواست پہنچی ہی نہیں ہے۔ ایسی بھی صور تحال ہو جاتی ہے۔ ایک طرف تو یہ کہ ہمارے سے کیوں نہیں پوچھا، دوسرے یہ کہ کیونکہ ہمارے سے پوچھا نہیں اس لئے اس پر کارروائی نہ کرو۔ اور پھر بدظنیاں پیدا ہوتی ہیں خلیفہ وقت پر اور خلیفہ وقت کے دفتر پہ۔ حالانکہ یہ سب غلط ہے۔ ہر خط یہاں پہنچتا ہے۔ جو یہاں آجائے وہ پڑھا بھی جاتا ہے، کھولا ، کھولا بھی جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ اس کو روک لیا جائے۔ اور ہر قسم کی درخواست متعلقہ جماعت کو رپورٹ کے لئے بھجوائی بھی جاتی ہے۔ تو بہر حال افرادِ جماعت کو میں بتادوں کہ جو بھی خط ان کا یہاں آتا ہے، یہاں پہنچ جائے تو وہ کھولا بھی جاتا ہے، پڑھا بھی جاتا ہے اور اس پر کارروائی بھی کی جاتی ہے۔ متعلقہ جماعت کا شعبہ اس کے جواب میں دیر لگاتا ہے تو ایسے عہدیداران کو خوف کرنا چاہیے کہ ان کے یہ عمل فردِ جماعت اور خلیفہ وقت میں دوری پیدا کرنے والے ہوتے ہیں۔ نظام کے بارے میں بدظنیاں پیدا کرنے والے ہوتے ہیں اور اس طرح وہ متعلقہ عہدیدار گنہگار بن رہا ہوتا ہے۔ کسی کے ایمان سے کھیل کر وہ اپنے آپ کو گنہگار بنا رہا ہوتا ہے۔ پس ایسے لوگوں کو خوف کرنا چاہیے۔ ہر عہدیدار کو یہ سمجھنا چاہیے اور خاص طور پر جن کے سپر د افراد جماعت کی