سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 420 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 420

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 388 کاموں میں ملوث ہونے سے تعلق رکھتے ہیں یا مخالفین کے کسی ذریعہ سے یا کمزور ایمان والوں کے ذریعہ سے جماعت میں بے چینی پیدا کرنے کی جو کوشش ہوتی ہے اس سے تعلق رکھتے ہیں اور بعض جگہ تربیت کے شعبے نے افراد جماعت کے ساتھ ایک خاص تعلق پیدا کر کے اس بارے میں کوشش بھی کی ہے تو جہاں لوگوں کی شکایات اس کوشش سے دور ہوئیں اور نظام سے بد ظنی دور ہوئی وہاں انہوں نے جماعتی فیصلوں کا احترام بھی کیا اور اسے احترام سے قبول بھی کیا اور پھر مخالفین کی جو منافقین یا بد ظن افراد سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں تھیں وہ بھی ناکام ہوئیں۔ پس شعبہ تربیت اور امور عامہ کو بعض معاملات میں مل کر کام کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا امور عامہ کا کام تو بہت وسیع ہے۔ جماعت میں معاشی استحکام پیدا کرنے کے لئے پروگرام بنانا ان کا کام ہے۔ افراد جماعت کو ملازمت اور دیگر ذرائع روز گار کے لئے راہنمائی اور مدد کرنا ان کا کام ہے۔ خدمت خلق کے کاموں کو سر انجام دینا ان کا کام ہے۔ پیار اور محبت سے سمجھا کر تنازعات کو ختم کروانا ان کا کام ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن قضائی معاملات میں امور عامہ کا بہر حال دخل نہیں ہے کہ فیصلہ کرنا شروع کر دیں۔ ہاں قضاء کے فیصلوں کی تنفیذ کروانا ان کا کام ہے لیکن اس میں فیصلہ کے بعد اگر کوئی فریق اس کی تعمیل کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہا ہے تو امور عامہ کے شعبے کا کام ہے کہ اسے آرام سے سمجھائیں کہ اس پر عمل نہ کر کے کیوں اپنا دین برباد کرتے ہو۔ تھوڑے سے دنیاوی مفاد کی خاطر کیوں اپنا دین برباد کرتے ہو اور پھر ایسے لوگ میر ا وقت بھی ضائع کرتے ہیں۔ یہ بار بار مجھے لکھتے رہتے ہیں حالانکہ خود غلطی پہ ہو۔ اپر ہوتے ہیں۔ تو بہت سے لوگ سمجھ جاتے ہیں اگر ان کو سمجھایا جائے۔ بہر حال امور عامہ کا کام صرف سزائیں دلوانا نہیں ہے بلکہ ان سزاؤں سے لوگوں کو بچانا ہے اور اس کے لئے انہیں ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہیے۔ اگر کہیں غلط کام ہوتا دیکھیں یا سمجھیں کہ اس سے جماعتی مفاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے تو فوراً شعبہ تربیت کو بھی ساتھ ملا کر اور مربیان کی مدد بھی حاصل کر کے جہاں وہ جماعتی مفاد کی حفاظت