سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 419 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 419

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 387 کو فوقیت دو۔ (صحیح البخارى كتاب النكاح باب الاكفاء في الدين حديث 5090) اگر یہ ہماری ترجیح ہو جائے گی تو پھر لڑکے بھی اور لڑکیاں بھی اپنی دینی حالتوں کو بہتر کرنے اور خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کو ترجیح دیں گے اور اس طرح ہم اپنی اگلی نسل کو محفوظ کر سکیں گے ورنہ آجکل دجال جو چالیں چل رہا ہے اس سے معمولی کوششوں سے بچنا بہت مشکل ہے۔ اس کے لئے تو بہت وسیع منصوبہ بندی کرنی ہو گی۔ پس ہر عہدیدار کو پہلے اپنے گھر کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ پھر جماعت میں اس بات کی طرف بہت توجہ دلانے کی ضرورت ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا ہمارا عہد صرف عہد ہی نہ ہو بلکہ ہم میں سے ہر ایک اس کی عملی شکل بن جائے۔ جب یہ ہو گا تبھی ہم دجال کا مقابلہ کر سکیں گے۔ اپنی نسلوں کو بچا سکیں گے۔ اپنے عہدوں کی بھی حفاظت کر سکیں گے ، ان کا حق ادا کر سکیں گے اور اپنی امانتوں کا بھی حق ادا کر سکیں گے۔ پس دنیا کی تمام جماعتوں کی ملکی اور مقامی عاملہ اور اسی طرح ذیلی تنظیموں کو اس بارے میں بہت سوچ و بچار اور ایک لائحہ عمل کی ضرورت ہے تاکہ اپنی امانتوں کا حق ادا کر سکیں۔ امور عامہ کا شعبہ جیسا کہ میں نے امور عامہ کے کام کی مختصراً تھوڑی سی مثال دی تھی۔ ہمارے نظام میں امور عامہ کا بھی ایک شعبہ ہے اور یہ شعبہ بھی بہت اہم سمجھا جاتا ہے اور ہے بھی لیکن عموماً یہ تاثر پیدا ہو گیا ہے کہ اس شعبے کے کام لوگوں کو سزائیں دلوانا یا سختی سے لوگوں کو تنبیہ کرنا ہے۔ امور عامہ کے شعبے میں کام کرنے والے لوگوں کو دنیا میں ہر جگہ پتہ ہونا چاہیے کہ ان کا صرف اتنا کام نہیں ہے۔ یہ تو کام کا ایک حصہ ہے اور سختی سے تنبیہ کرنا تو بہر حال ان کا کام نہیں ہے۔ جب کوئی حل نہ ہو تو یہ ایک انتہا ہوتی ہے جہاں سزا کے طور پر سفارش کی جاتی ہے۔ اگر شعبہ تربیت فعال ہے تو امور عامہ کے بہت سے مسائل حل ہو جاتے ہیں یہاں پھر میں یہی کہوں گا کہ اگر شعبہ تربیت فعال ہے تو امور عامہ کے بہت سے مسائل حل ہو جاتے ہیں جو افراد جماعت کے آپس کے جھگڑوں سے تعلق رکھتے ہیں یا افراد جماعت کے غلط