سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 418 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 418

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 386 احمد یہ کو ہمیشہ ایسے سلطان نصیر عطا ہوں جو اپنی ذمہ داریو جو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے ا۔ ہوئے اپنے کام سر انجام دیں نہ یہ کہ صرف عہدہ لینے کے لئے عہدے سنبھالے ہوں۔ یہ بھی ایک بہت توجہ طلب بات ہے جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ جو شخص مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کا ذمے دار ہو اللہ تعالیٰ اس کی حاجات اور مقاصد پوری نہیں کرے گا جب تک وہ لوگوں کی ضروریات پوری نہ کرے۔ پس جہاں یہ ذمے داری خلیفہ وقت کی ہے وہاں ان تمام عہدیداروں کی بھی ہے جو خلیفہ وقت کے اپنی اپنی جماعتوں میں نمائندے ہیں اور یہ عہدیداروں پر بہت بڑی ذمے داری ہے۔ صرف عاملہ کے اجلاسوں میں اپنی رائے دے کر اور میٹنگز میں شامل ہو کر سمجھ لینا کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے یہ کافی نہیں ہے۔ لوگوں کی بہتری کے لئے منصوبہ بندی کرنا اور پھر اس پر عمل درآمد کروانا انتہائی ضروری امر ہے اور جو وسائل ہمارے پاس ہیں ان کے اندر رہتے ہوئے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کا جو بہترین حل ہو سکتا ہے وہ ہمیں نکالنا چاہیے۔ اس کے لئے دنیاوی ضروریات پوری کرنے کے لئے شعبہ امور عامہ بھی ہے اور شعبہ صنعت و تجارت ہے اور اس طرح ذیلی تنظیموں کو اس کے لئے اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ بیشک ہمارے پاس وسائل کم ہیں لیکن جو ہیں ان کا بہترین استعمال صحیح منصوبہ بندی سے بہت سوں کی مد د کر سکتا ہے۔ رشتہ ناطہ کے شعبے کا چیلنج ایک شعبہ جو آجکل تقریباً تمام جماعتوں کے لئے ایک چیلنج بنا ہوا ہے وہ رشتہ ناطہ کا شعبہ ہے۔ اس کے لئے بہت وسیع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ جماعتی نظام کو بھی، ذیلی تنظیموں کے نظاموں کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر یہ کام کرنا ہو گا۔ یہاں پھر جماعتی بھی اور ذیلی تنظیموں کے بھی شعبہ تربیت کو بہت فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر اسی شعبے کی طرف بات پلٹ جاتی ہے۔ اگر ہمارے نوجوانوں کی صحیح تربیت ہو تو ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو ہمیشہ سامنے رکھیں کہ رشتے کے معاملے میں دولت، خاندان اور خوبصورتی کی بجائے دین