سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 417
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم ہے ، بڑی فکر والی بات ہے۔ 385 تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اپنی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اپنی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا۔ یہ لمبی روایت ہے اور جگہوں کا ، نگرانوں کا بھی یہاں ذکر ہے لیکن جو جو اپنے متعلقہ ہے وہ میں پڑھ دیتا ہوں۔ فرمایا کہ امیر بھی نگران ہے۔ (صحیح البخارى كتاب الاحكام باب قول الله تعالیٰ اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول حدیث 7138) یعنی عہدیدار بھی۔ اس میں عہدیداران بھی شامل ہیں کہ وہ نگر ان ہیں اور ہر ایک سے اپنی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ رعایا سے مراد وہ لوگ نہیں جن پر حکومت کی جاتی ہے بلکہ وہ لوگ ہیں جن کی مدد کرنے کی، ان کی اصلاح کی، ان کی بہتری کی ذمے داری ڈالی گئی ہے۔ پس اسی حدیث میں مثال دی گئی ہے کہ خاوند اپنے گھر کا نگران ہے، عورت اپنے بچوں کی نگر ان ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الاحکام باب قول الله تعالى اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول 7138 حديث تو حکومت کرنے کے لئے تو نگران نہیں۔ ان کی تربیت کے لئے ، ان کی بہتری کے لئے منصوبے بنانے کے لئے ، ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے نگران ہے۔ پس اگر یہ ذمہ داری ادا نہیں کر رہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق بہشت حرام ہو جاتی ہے۔ پس وہ لوگ جو نگران بنائے گئے ہیں، عہد یدار بنائے گئے ہیں اگر صحیح طرح کام سر انجام نہیں دے رہے اور اپنے علاقے میں صرف خلیفہ وقت کے نمائندے، نام نہاد نما ئندے بنے بیٹھے ہیں وہ خلیفہ وقت کو بھی بدنام کر رہے ہیں اور خلیفہ وقت کو بھی گنہگار بنا رہے ہیں۔ جیسا کہ میں نے مثال دی تھی کہ رپورٹیں مہینوں نہیں بھیجتے۔ اب ایسے لوگوں کے بارے میں میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں کہ اگر حقیقت میں وہ اپنی اصلاح نہیں کرتے تو ان کو خدمت سے فارغ کر دیا جائے اور میں پھر ان کے گناہوں میں شامل نہ ہوں۔ پس میں بھی اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں۔ یہ لوگ بھی استغفار کریں اور اپنی اصلاح کریں۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ خلافت