سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 416
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 384 کیا۔ اس جلسے پر باہر سے آئی ہوئی خاتون تھی کہ یہاں جلسے پر ایک بات نے مجھے بہت متاثر کیا۔ میں نے دیکھا کہ صدر لجنہ ڈسپلن کی ڈیوٹی والی لڑکیوں کے ساتھ ڈیوٹی دے رہی تھی۔ یہ تو بہر حال اس اس صدر کا فرض تھا۔ یہ کوئی غیر معمولی کام نہیں جو اس نے کیا۔ اگر ڈیوٹی نہ دے رہی ہو اور ہر جگہ پر نگرانی نہ کر رہی ہو تو تب وہ قصور وار ہے۔ اگر صدر خود اس طرح ڈیوٹی نہ دے یا چیک نہ کرے تو وہ اپنی امانت کا حق ادا نہیں کر رہی لیکن بہر حال جو اپنی امانت کا حق ادا کرنے والے عہدیدار ہیں وہ دوسروں کی اصلاح کا بھی باعث بنتے ہیں اور لجنہ میں بنتی ہیں۔ پس یہ سوچ ہے جو ہمارے ہر عہدیدار میں ہونی چاہیے کہ قوم کے سردار اس کے خادم ہیں۔ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ اسی طرح عام حالات میں بھی ہر عہدیدار کا یہ بھی کام ہے کہ افرادِ جماعت سے ذاتی رابطہ رکھ کر ان سے ذاتی تعلق بڑھائیں۔ ان کی خوشی غمی میں شامل ہوں۔ ہر فرد جماعت کو یہ احساس پیدا کروائیں کہ نظام جماعت تو ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کے جذبات پیدا کرنے کے لئے اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کے لئے بنایا گیا ہے، نہ کہ کوئی افسر ہے یا کوئی ماتحت ہے۔ کوئی بڑا ہے یا کوئی چھوٹا ہے۔ ہم سب ایک ہیں۔ بھائی بھائی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مشن کو پورا کرنے کے لئے اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق کوشش کر رہے ہیں۔ یہی سوچ ہے جو نظام جماعت کو ایک خوبصورت نظام بنا سکتی ہے اور یہی سوچ ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کے بھی قریب کر سکتی ہے اور یہ سوچ نہ رکھنے اور اس کے خلاف عمل کرنے سے ہم اللہ تعالیٰ کی ناراضگی بھی مول لینے والے ہوں گے۔ ایک روایت میں آتا ہے حضرت معقل بن لیسار بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کا نگران اور ذمہ دار بنایا ہے وہ اگر لوگوں کی نگرانی، اپنے فرض کی ادائیگی اور ان کی خیر خواہی میں کو تاہی کرتا ہے تو اس کے مرنے پر اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت حرام کر دے گا اور اسے بہشت نصیب نہیں کرے گا۔ (صحیح البخاری کتاب الاحكام باب من استرعى رعية فلم ينصح حديث 7150، 7151) پس یہ بہت بڑا انذار ہے، بڑے خوف کا مقام