سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 413 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 413

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 381 بارے میں شکایت ہے کہ بڑا متکبرانہ رویہ ہے۔ سلام تک کا جواب نہیں دیتے۔ ایسے رویے دکھانے والے اپنی اصلاح کریں اور اللہ تعالیٰ نے جو خدمت کا موقع دیا ہے تو زمین پر جھکیں اور ہر بچے بڑے سے پیار اور عاجزی سے ملیں۔ آپ کو مقرر کیا گیا ہے کہ افرادِ جماعت کی خدمت کریں نہ یہ کہ ان پر کسی قسم کی افسر شاہی کا رعب ڈالیں۔ پھر بعض ایسے ہیں جو اپنے کام بھی صحیح طرح سر انجام نہیں دیتے۔ یہاں میری طرف سے بھی بعض معاملات رپورٹ کے لئے جاتے ہیں تو ان کی دراز میں پڑے رہتے ہیں جب تک یاد دہانی نہ کراؤ، بار بار نہ پوچھو اور چھ مہینے سال بعد پھر ایک معافی نامہ لکھ کر کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے سے غلطی ہو گئی۔ ہم ان پر بروقت کارروائی نہیں کر سکے۔ اگر مرکز کے خطوط کے ساتھ ، خلیفہ وقت کے خطوں کے ساتھ ان کا یہ سلوک ہے اور یہ رویہ ہے تو پھر عام فردِ جماعت کے متعلق ان سے کس طرح توقع کی جاسکتی ہے کہ نیک سلوک کرتے ہوں گے ۔ ان لوگوں کو اپنی اصلاح کرنی چاہیے ورنہ ان کو خدمت سے فارغ کر دیا جائے گا۔ اپنی بہترین مثالیں لوگوں کے سامنے قائم کریں عہدیداران کو بعض اور ذمہ داریوں کی طرف بھی میں توجہ دلانا چاہوں گا۔ ایک تو یہی کہ اپنے اندر عاجزی پیدا کریں اور جو ذمے داری دی گئی ہے اسے اس کا حق ادا کرتے ہوئے ادا کرنے کی کوشش کریں۔ ہر وقت یہ ذہن میں رہے کہ خدا تعالیٰ ہمارے اوپر نگران ہے۔ وہ ہماری ہر حرکت دیکھ رہا ہے۔ کوئی عہدہ ملنے کے بعد ہم ہر قسم کی بندشوں سے آزاد نہیں ہو گئے بلکہ ہم خدا تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے زیادہ آگئے ہیں۔ لوگوں نے ہمیں منتخب کیا ہے، ہم پر اعتماد کر کے خلیفہ وقت نے ہمیں اس خدمت کے لئے منظور کیا ہے تو ہمیں اس اعتماد کو قائم رکھنے کی کوشش کرنی ہے اور اپنی تمام تر صلاحیتیں اس خدمت کو بہترین رنگ میں ادا کرنے کے لئے صرف کرنی ہیں۔ یہ سوچ ہو گی تو تبھی صحیح کام کرنے کی روح بھی پیدا ہو گی اور افراد جماعت کا بھی تعاون رہے گا۔ اکثر عہدیدار جو شکایت کرتے ہیں کہ بعض شعبوں میں افراد جماعت تعاون نہیں کرتے بیشک یہ افراد کی بھی ذمہ داری ہے کہ جن لوگوں کو انہوں نے خود خدمت کے لئے چنا ہے ان سے