سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 414
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 382 تعاون بھی کریں لیکن ساتھ ہی عہدیداران کا بھی کام ہے کہ اپنی بہترین مثالیں لوگوں کے سامنے قائم کریں۔ اب ایک عہدیدار کی رپورٹ ملی کہ وہ اپنی آمد پر صحیح چندہ نہیں دیتا اور نہ ہی کم شرح سے چندہ ادا کرنے کی اجازت لینی چاہتا ہے تو ایسا شخص پھر دوسروں کے لئے کیا نمونہ پیش کرے گا؟ دوسروں کو کس طرح کہے گا کہ مالی قربانی کرو ؟ پس اپنے ذاتی نمونے بہت ضروری ہیں۔ بہت زیادہ استغفار کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی حالتوں کے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ اگر ایک سیکرٹری تربیت خود پانچ وقت با جماعت نماز ادا کرنے کی طرف توجہ نہیں دیتا تو دوسروں کو کس طرح تلقین کر سکتا ہے کہ نمازوں کی طرف توجہ دو۔ اسی طرح ایک واقف زندگی اور مربی خود نوافل ادا کرنے کی طرف توجہ نہیں دے رہا تو افراد جماعت کو وہ کس طرح نصیحت کر سکتا ہے کہ عبادتوں کی طرف توجہ کرو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسی طرف تو ہماری توجہ دلائی ہے کہ غیر احمدی مولوی نصیحت کرتا ہے لیکن اس کے عمل اس کی نصیحت کے مطابق نہیں ہیں اس لئے اس کی باتوں کا اثر نہیں ہوتا۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 67 ایڈیشن 1984ء) ہر عہدیدار کے عمل کا فرق پڑتا ہے پس ہمارے لئے تو ہر لمحہ بڑی فکر سے گزارنے کی ضرورت ہے۔ ہر قدم بڑا پھونک پھونک کر اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جب یہ ہو گا تب ہی ہم اپنی امانتوں کا حق ادا کرنے والے ہوں گے۔ سیکر ٹریان تربیت اگر اپنے نمونے قائم کرتے ہوئے پیار اور محبت کے ساتھ جماعت کی تربیت کریں تو افراد جماعت میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں۔ ہر عہدیدار کو اپنے شعبے کی بہتری کے لئے کم از کم دو نفل بھی روزانہ پڑھنے چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے۔ اگر تربیت کا شعبہ فعال ہو جائے تو باقی شعبے خود بخود میرے اندازے کے مطابق کم از کم ستر فیصد تک بہتر رنگ میں کام کرنا شروع کر دیں گے۔ پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ عہدیداروں نے اپنے نمونے قائم کرنے ہیں اور خاص طور پر