سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 411
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 379 پس یہ باتیں منتخب کرنے والوں کو بھی ہمیشہ سامنے رکھنی چاہئیں۔ قرآن کریم کے حکم کو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے کہ تمہاری نظر میں دعا کے بعد جو اہل ترین لوگ ہیں کسی خدمت کے لئے ، انہیں منتخب کرو۔ اور دوسرے یہ کہ اگر کوئی کسی عہدے کے لئے خواہش رکھتا ہو تو جماعتی نظام میں اور ہر انتخابی فورم میں اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے اور منتخب کرنے والے کو انصاف سے اپنا انتخاب کرنے کا حق استعمال کرنا چاہیے۔ انتخاب کا طریق عموماً انتخاب کا یہ طریق ہے کہ ملکی مرکزی سطح پر عہدیداران کے منتخب کرنے کی رائے انتخاب کے نتائج کے ساتھ خلیفہ وقت کو پیش کی جاتی ہے اور خلیفہ وقت کو اختیار ہے کہ وہ چاہے کثرت رائے سے پیش کیے ہوئے نام کو منتخب کرے یا کسی کم ووٹ حاصل کرنے والے کو منتخب کرے۔ بعض دفعہ اس شخص کے بارے میں بعض معلومات اور بعض ایسے حالات کا مرکز اور خلیفہ وقت کو علم ہوتا ہے اور عام آدمی کو نہیں ہوتا۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ کثرت رائے والے کو ضرور منتخب کیا جائے تو بہر حال یہ ضروری نہیں ہے کہ کثرتِ رائے والے کو ضرور منتخب کیا جائے۔ اسی ں کے جو انتخاب ہیں ان میں حسب قواعد بعض کی منظوری مقامی مرکزی انتظامیہ دے دیتی ہے اور اگر کوئی تبدیلی کرنی ہو تو خلیفہ وقت سے پوچھ لیتے ہیں۔ کوشش تو بہر حال یہ کی اور جاتی ہے کہ جس حد تک ممکن ہو اچھے کام کرنے والے عہدیدار میسر آئیں لیکن بعض جگہ جس قسم کے لوگ میسر ہیں ان میں سے ہی منتخب کرنے پڑتے ہیں لیکن یہاں پھر چننے والوں کو ، منتخب کرنے والوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ امانت کا اپنی استعدادوں کے مطابق بہترین رنگ میں حق ادا کرنے والے لوگ منتخب ہوں اور کبھی کسی خواہش کرنے والے کو یا دوستی کی وجہ سے یار شتے داری کی وجہ سے یا یہ دیکھ کر رائے نہیں دینی چاہیے کہ اکثر ہاتھ کسی شخص کے لئے کھڑے ہوئے ہیں تو میں بھی اپنا ہا تھ کھڑا کر دوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی نفی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے