سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 410
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 378 مزاج بدل جاتے ہیں اور جو عاجزی اور محنت سے اور انصاف سے کام کرنے کی روح ایک عہدیدار میں ہونی چاہیے وہ نہیں رہتی۔ تو پھر ایسے شخص کے رویے کی ذمے داری اسی پر ہو گی نہ کہ منتخب کرنے والے پر۔ بہر حال ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اپنے میں سے بہترین لوگ منتخب کریں اور دعا کر کے منتخب کریں۔ خواہش کرنے والے کو عہدہ نہیں دیا جاتا بہر حال عام طور پر یہ کوشش ہوتی ہے کہ جو شخص کسی کام کے لئے مقرر کیا جا رہا ہے وہ ایسانہ ہو جو آگے بڑھ بڑھ کر صرف اس لئے آ رہا ہے کہ میں عہدیدار بن جاؤں۔ اگر بعض دفعہ ایسے شخص کا نام جماعت کے افراد کی طرف سے کسی عہدے کے لئے تجویز ہو کر آبھی جائے تو مرکز کو یا خلیفہ وقت کو اگر اس کے حالات کا پتا ہو تو اسے کام نہیں دیا جاتا اور یہ بات عین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ہے۔ ایک روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رو برو دو شخص آئے اور کہا کہ ہمیں فلاں کام سپر د کر دیا جائے ، ہم اس کے اہل ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کو میں کسی کام کے لئے مقرر کرتا ہوں اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے اور جو خواہش کر کے خود کام اپنے سر پر لے اس کی پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نہیں ہوتی۔(صحیح البخاری کتاب الاحكام باب من لم يسأل الامارة اعانه الله عليها حديث 7146) (صحیح البخاري كتاب الاحكام باب ما يكره من الحرص على الامارة حدیث 7149) اس کے کام میں برکت نہیں پڑتی۔ اس لئے کبھی عہدے کی خواہش کر کے عہدہ لینے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔ ہاں خدمت دین کا ، دین کا شوق ضرور رور ہونا چاہیے۔ مجھے موقع ملے میں خدمت دین کروں اور یہ خدمت کسی بھی رنگ میں ملے اسے بجالانے کے لئے بھر پور کوشش کرنی چاہیے۔ پس عہدے کی خواہش کرنا، کسی کام کا نگر ان بن کر اسے کرنے کی خواہش کرنا پسندیدہ نہیں ہے۔ ہاں خدمت کا جذبہ ہونا چاہیے چاہے وہ کسی بھی رنگ میں ہو، یہ پنہ ہو، یہ پسندیدہ امر - یدہ امر ہے۔