سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 409
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 377 عہدے امانت ہیں تشہد ، تعوذ اور اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنَتِ إِلَى اهلها ( النساء: 59) یعنی یقینا اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ امانت ان کے اہل کے سپر د کرو۔ پھر ایک حدیث میں آتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عہدہ اور ایسا مقام جس میں لوگوں کے معاملات دیکھنے کا اختیار دیا گیا ہو یا لوگوں کو نگران مقرر کیا گیا ہو تو یہ بھی ایک امانت ہے۔ (صحیح مسلم کتاب الامارة باب كراهة الامارة بغير ضرورة حديث 4719) پس اس لحاظ سے ہمارے جماعتی نظام میں بھی ہر عہدہ یا کوئی خدمت جس پر کسی کو مامور کیا جاتا ہے امانت ہیں۔ ہماری جماعت میں جماعتی نظام میں ہر سطح پر ہم اپنے عہدیدار منتخب کرتے ہیں۔ مقامی سطح سے لے کر مرکزی، ملکی سطح تک۔ اسی طرح مرکز میں ہیں پھر ذیلی تنظیموں میں اسی ترتیب سے مقرر کیے جاتے ہیں۔ مرکزی نظام ہے یا ذیلی تنظیم کا نظام ہے ہر جگہ نچلی سطح سے لے کر مرکزی سطح تک عہدیدار مقرر کیے جاتے ہیں اور عموماً یہ انتخاب کے ذریعے ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جب تم یہ عہدیدار منتخب کرو تو ایسے لوگوں کو منتخب کرو جو بظاہر نظر یعنی تمہاری نظر میں اس کام کے لئے بہترین ہیں اور اپنے کام کی امانت کا حق ادا کر سکتے ہیں۔ انتخاب کے وقت خویش پروری یا رشتے داری کا خیال نہیں رکھنا چاہیے انتخاب کے وقت خویش پروری یا رشتے داری کا خیال نہیں رکھنا چاہیے ۔ بعض دفعہ بعض عہدیدار مرکزی طور پر یا خلیفہ وقت کی طرف سے براہ راست بھی مقرر کر دیئے جاتے ہیں اور کوشش یہی ہوتی ہے کہ غور کر کے جو بہترین شخص اس کام کے لئے میسر ہو اسے مقرر کیا جائے لیکن بعض دفعہ اندازے کی غلطی بھی ہو سکتی ہے یا عہدے حاصل کرنے کے بعد لوگوں کے