سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 41

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 9 ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہماری عملی کوشش میں نیک نیتی اور اخلاص و وفا کتنا ہے ۔۔۔ بہر حال عملی طریق بھی جو ہے وہ پریشان کر دیتا ہے اور اگر اُس صحیح طریق کو اپنا یا نہ جائے تو کامیابی نہیں ملتی۔ پس جو عملی طریق کسی کام کرنے کے لئے تجویز ہوا ہے ، دماغ کو بھی اُس کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے، اس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ پس ہمیں اپنی عملی اصلاح کی حالتوں کے لئے بھی اس طرف دیکھنا ہو گا، ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہماری نیکی کے ارادے دماغ کے اس حصے پر کیوں اثر نہیں کرتے جس پر اثر ہونے کے نتیجہ میں عملی اصلاح شروع ہو جاتی ہے۔ ہمیں ان روکوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو اس رستے میں حائل ہوتی ہیں۔ پھر دیکھنا ہو گا کہ ہمارے عبودیت کے معیار کیا ہیں ؟ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہماری عملی کوشش میں نیک نیتی اور اخلاص وو فاکتنا ہے۔ پس دو قسم کی روکیں ہیں جو عملی اصلاح کے راستے میں حائل ہوتی ہیں، ایک قوتِ ارادی میں کمزوری اور دوسری قوتِ عملی میں کمزوری۔ لیکن جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے ان کے در میان میں ایک اور صورت بھی عملی اصلاح میں کمی کی ہے اور وہ ہے علمی طور پر کمزوری۔ یہ دونوں طرف اپنا اثر ڈالتی ہے۔ ہم عملی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ ارادہ بھی علم کے مطابق چلتا ہے اور عمل بھی علم کے مطابق چلتا ہے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ اگر کسی انسان کو یہ معلوم نہ ہو کہ ایک ہزار کا لشکر اُس کے مکان پر حملہ آور ہونے والا ہے بلکہ صرف اس قدر جانتا ہو کہ کسی نے حملہ کرنا ہے اور ہو سکتا ہے ایک دو آدمی ہوں تو اُس کے لئے وہ تیاری کرتا ہے۔ لیکن اگر اُسے یہ علم ہو کہ حملہ آور ایک ہزار ہیں تو پھر اُس کی تیاری اُس سے مختلف ہوتی ہے۔ پس علم کی کمی کی وجہ سے نقص پیدا ہو جاتا ہے اور علم کی صحت قوتِ ارادی کو بڑھا دیتی ہے۔ اسی طرح بعض دفعہ انسان کسی چیز کو اُٹھانے کی کوشش کرتا ہے اور اُسے ہلکی سمجھتا ہے لیکن وہ بھاری ہوتی ہے، اُٹھا نہیں سکتا۔ لیکن جب ایک دفعہ اندازہ ہو جائے کہ یہ بھاری ہے تو پھر زیادہ قوت صرف کرتا ہے، زیادہ طاقت لگاتا