سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 42 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 42

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 10 ہے، اُٹھانے کا طریق بدل لیتا ہے تو پھر اُس کو اُٹھا بھی لیتا ہے۔ پس کوئی زائد طاقت اُس میں دوسری دفعہ نہیں آئی بلکہ صحیح علم ہونے کی وجہ سے اور صحیح طریق پر طاقت کا استعمال اُس نے کیا تو اس میں کامیاب ہو گیا۔ صلاحیت اور طاقت کا استعمال صحیح ہو تو آسانی سے کام ہو جاتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیت تو موجو د ہے۔ جب اُس صلاحیت اور طاقت کا استعمال صحیح ہو تو آسانی سے کام ہو جاتا ہے یا بہتر رنگ میں کام ہو جاتا ہے اور یہ علم کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگر صلاحیت کا صحیح استعمال نہ ہو تو عام معاملات میں بھی نقصان پہنچ جاتا ہے۔ پس یہاں اسی اصول کو عملی صلاحیت کے استعمال اور عملی کمزوری کو دور کرنے کے لئے لگانے کی ضرورت ہے۔ اور اس کے لئے اپنے علم کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے تا کہ اُس کے مطابق صحیح طاقت کا استعمال کر کے اپنی کمزوریوں پر غالب آیا جا سکے۔ قوتِ موازنہ انسان کو ہو شیار کرتی ہے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک بات یہ بھی بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک انسان میں ایک قوتِ موازنہ رکھی ہے جس سے وہ دو چیزوں کے درمیان موازنہ کر سکتا ہے، جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ فلاں کام کرنے کے لئے اتنی طاقت درکار ہے۔ اور کیونکہ ساری طاقت انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتی بلکہ دماغ میں محفوظ ہوتی ہے۔ اس لئے پہلی دفعہ جب ایک مان میں ہو کام نہ ہو ، جیسے وزن اُٹھانے کی مثال دی گئی ہے ، وزن نہ اُٹھایا جاسکے تو پھر انسان دماغ کو مزید طاقت بھیجنے کے لئے کہتا ہے اور اس طاقت کے آنے پر چیز اُٹھانے میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے اور یہ قوتِ موازنہ بھی علم کے ذریعہ آتی ہے۔ خواہ اندرونی علم ہو یا بیرونی علم ہو۔ اندرونی علم سے مراد مشاہدہ اور تجربہ ہے اور بیرونی علم سے مراد باہر کی آوازیں ہیں جو کان میں پڑتی ہیں۔ جیسے باہر کے کسی حملے کی مثال دی گئی تھی۔ باہر کے حملے سے ہوشیار کرنے کے لئے باہر کی آوازیں انسان کو ہو شیار کرتی ہیں۔ لیکن یہ جو وزن اُٹھانے کی مثال دی گئی تھی، اس کے لئے قوتِ موازنہ نے خود