سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 40 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 40

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 8 آئے گی جب عمل کرنے کی جو قوت ہے، ہمارے اندر جو طاقت ہے، اُس کی جو کمزوری ہے اُس کو دُور کریں، اُس کے نقص کو دور کریں۔ اس کے بغیر اصلاح نہیں ہو سکتی۔ اس پہلو سے جب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ ہماری قوتِ ارادی کیسی ہے تو ہمیں نظر آتا ہے کہ جہاں تک ارادے کا تعلق ہے اس میں بہت کم نقص ہے کیونکہ ارادے کے طور پر جماعت کے تمام یا اکثر افراد ہی تقریباً یہ چاہتے ہیں کہ ان میں تقویٰ اور طہارت پیدا ہو۔ وہ اسلامی احکام کی اشاعت کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اُس کا قرب حاصل کر سکیں۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی وضاحت یوں فرمائی ہے کہ یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ ہماری قوتِ ارادی تو مضبوط ہے اور طاقتور ہے پھر بھی نتائج صحیح نہیں نکلتے تو پھر یقینا دو باتوں میں سے ایک بات ہے۔ یا تو یہ کہ عمل کے لئے حقیقی قوتِ ارادی جو چاہیے ، اتنی ہمارے اندر نہیں ہے لیکن عقیدے کی اصلاح کے لئے جتنی قوت ارادی کی ضرورت تھی وہ ہم میں موجود تھی۔ اس لئے عقیدے کی تو اصلاح ہو گئی لیکن عملی اصلاح کے لئے چونکہ قوتِ ارادی کی ضرورت تھی، وہ ہم میں موجود نہیں تھی، اس لئے ہم اعمال کی اصلاح میں کامیاب نہیں ہو سکے اور پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ہماری عبودیت میں بھی کچھ نقص ہے۔ خدا تعالیٰ کی یہ بند گی جس کا ہم دعویٰ کرتے ہیں اُس میں بھی کچھ نقص ہے اور اس وجہ سے قوت عملی مفلوج ہو گئی ہے اور قوتِ ارادی کے اثر کو قبول نہیں کر رہی۔ یعنی ہماری عمل کی قوت مفلوج ہو گئی ہے اور قوتِ ارادی کا اثر قبول نہیں کر رہی۔ یا ان باتوں کو قبول کرنے کے لئے جن معاونوں کی یا جن مدد گاروں کی ضرورت ہے ، اُن میں کمزوری ہے۔ اس صورت میں ہم، جب تک قوتِ متاثرہ یا عملی قوت کا یا اثر لے کر کسی کام کو کرنے والی قوت کا علاج نہ کر لیں، کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ مثلاً ایک طالبعلم ہے ، وہ اپنا سبق یاد کرتا ہے مگر یاد نہیں رکھ سکتا۔ اُس کا جب تک ذہن درست نہیں کر لیا جاتا اُس وقت تک اُسے خواہ کتنا سبق دیا جائے ، کتنی ہی بار اُسے یاد کروایا جائے یا یاد کرانے کی کوشش کی جائے ، وہ اُسے یاد نہیں رکھ سکے گا۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 435-436 خطبه فرموده 10 جولائی 1936 مطبوعہ ربوہ )