سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 407 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 407

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 375 نہیں، ہم اس کو شامل کر سکتے ہیں یا پھر لانگ ٹرم کے لئے اگر کوئی آٹھ دس سال پہلے کچھ عرصہ کے لئے بقایا دار رہا ہے اور اس کے بعد اب وہ دو تین سال سے regularly دے رہا ہے، کیا ہم اس کو انتخابات میں شامل کر سکتے ہیں ؟ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ یہ ساری باتیں آپ کے قواعد میں لکھی ہوئی ہیں، آپ نے قواعد پڑھے ہیں ؟ قواعد میں لکھا ہوا ہے کہ جو جماعتی چندوں میں چھ مہینے کا بقایا دار ہے یا ذیلی تنظیموں کے چندوں میں ایک سال کا بقا یا دار ہے اس کو بقایا دار شمار کرنا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے جب مرکز پچھلی باتوں کو ignore کر رہا ہے اور یہ دیکھ رہا ہے کہ ایک بندہ regular چندہ دیتا آرہا ہے ، اس سال کا اس نے چندہ دے دیا یا دو سال کا چندہ دے دیا اس کی پہلے کوئی شکایت نہیں ہوئی اگر وہ اتنا بقایا دار تھا تو اس کے بارے میں کبھی آپ کی جماعت نے پوچھا نہیں کہ یہ اتنا بقایا دار ہے اس کو بقا یا دار شمار کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ اب جب اس نے ایک سال کے چندہ میں سے چھ مہینے کا چندہ دے دیا اور صرف چھ مہینے کا بقایا دار ہے تو وہ قواعد کی رو سے حصہ نہیں لے سکتا۔ ہاں اگر وہ دو تین مہینے کا بقایا دار ہے اور چار سال پہلے اگر اس نے چندہ نہیں بھی دیا تو کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ شامل ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ غلط ہے کہ آپ کسی بقایا دار کو پھر بھی انتخابات میں شامل کر لیں اور بعد میں اس کو کہہ دیں کہ اچھا اپنا بقایا چندہ ادا کر دو ، وہ غلط ہے۔ چندہ اصل میں ایک قربانی ہے، کوئی ٹیکس نہیں ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے چندہ اصل میں ایک قربانی ہے، کوئی ٹیکس نہیں۔ اگر کوئی بندہ کسی وجہ سے چندہ ادا نہیں کر سکا اور اس کے حالات بھی ایسے ہیں کہ وہ چندہ ادا نہیں کر سکتا تو اس سے کہیں پھر تم لکھ کے مرکز سے، خلیفہ وقت سے اجازت لے لو کہ میں یہ چندہ نہیں ادا کر سکتا کردیں۔ write off مجھے