سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 401 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 401

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 369 اس لئے کوشش کریں کہ آپ انصار اللہ ، جو چالیس سال کی عمر کے لوگ ہیں، matureہو چکے ہیں،انہوں نے کس طرح جماعت کے بچوں، اگلی نسل، عورتوں ، لڑکیوں اور لڑکوں کو سنبھالنا ہے۔ یہ سب آپ کی ذمہ داری ہے۔ اس لئے اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی ہر ممکن حد تک کوشش کریں اور اگر کہیں ستیاں ہیں تو ان کو دور کریں۔ ہر سطح پر آپ کی مجلس active ہونی چاہیے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہر عاملہ ممبر کا خاص طور پر اور ہر ناصر کا عام طور پر اللہ تعالیٰ سے ایک ذاتی رابطہ ہونا چاہیے۔ اس عمر میں آکر تو سو فیصد لوگوں کو نمازیں پڑھنے کا خیال آنا چاہیے اور پھر قرآن کریم کا آ پڑھنے، تلاوت کرنے کا خیال آنا چاہیے۔ یہی ماحول جب گھروں میں پیدا ہو گا تو آپ لوگ میاں، بیوی اور بچوں کے حقوق بھی ادا کرنے والے ہوں گے اور آپ کے نمونے کو دیکھ کے پھر بچے بھی صحیح رنگ میں اپنی زندگیاں اسلامی ماحول میں گزارنے والے ہوں گے۔ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے خاص طور پر ان ملکوں میں جہاں ہر طرف باہر اور اسکولوں میں بھی ایک کھلی بے حیائی ہے اور اس بے حیائی کو بے حیائی کا نام نہیں دیا جاتا، اس کو نئے زمانے کی تعلیم اور روشنی کا نام دیا جاتا ہے ، یہ روشنی اور تعلیم نہیں بلکہ دہریت کا ایجنڈا ہے، یہ ایجنڈا خدا تعالیٰ کے خلاف چلنے والوں کا ہے اور اس ایجنڈے کو ہم نے کس طرح counter کرنا ہے یہ ہر ناصر کا فرض ہے۔ اپنی تنظیم کو active کرنے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کریں چالیس سال کے بعد ، اس عمر پر پہنچ کے جو mature عمر ہوتی ہے، بعضوں کے بچے چھوٹے ہیں، کچھ کے بچے جوان ہو گئے ہیں، کچھ انصار ایسے ہیں جن کے بچوں کے بچے آگے جوانی میں قدم رکھ رہے ہیں۔ ان کو بھی اپنے نواسوں، پوتوں اور پوتیوں کو سنبھالنا ہے۔ کچھ نے اپنے بچوں کو سنبھالنا ہے تو ایک بہت بڑا کام ہے جو انصار اللہ کی age group کے لئے ہے اور ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس کا مقابلہ ہم نے کرنا ہے۔