سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 400
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 368 اس بارے میں مختلف وقتوں میں مختلف باتیں میں بتا چکا ہوں اور آپ ماشاء اللہ پڑھے لکھے لوگ ہیں آپ لوگوں کو خود شرماہٹ اور جھجک کو توڑنا ہو گا۔ آپ کہہ دیتے ہیں ہم کس طرح بات کریں لیکن دنیا میں وہ باہر سے سب کچھ سیکھ کے آتے ہیں۔ تو ہمیں بات کہانی کے رنگ میں کرنی پڑے گی، یہ نہیں کہ directly کہہ دیں کہ وہ بچہ چڑ جائے یا خوف زدہ ہو جائے۔ ایسے رنگ میں کہیں جو بچے کو attract کرنے والی بات ہو۔ پھر وہ آپ کی بات سنے ، آپ سے شیئر کرے ، پھر وہ سوال کرے کہ اچھا اسکول والے تو یہ کہتے ہیں، آپ یہ کہتے ہیں۔ پھر آپ اس کا جواب دیں کہ ہاں اسکول میں یہ کر دیتے ہیں یا تم نے باہر کے ماحول میں یہ سیکھا، اسلام یہ کہتا ہے، احمدیت یہ کہتی ہے ، اس کا یہ فائدہ ہے، اس کا یہ نقصان ہے تو نفع نقصان ، فائدہ، اچھائی، برائی کا جب فرق بتائیں گے تو پھر بچے کے ذہن میں باتیں بیٹھیں گی اور چھوٹے ہونے سے لے کر بڑے ہونے تک خاص طور پر پندرہ تاسترہ سال تک کی عمر کے بچوں کی آپ نگرانی کریں تو پھر آگے ٹھیک نکل آتے ہیں۔ ہر سطح پر آپ کی مجلس active ہونی چاہیے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صدر صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سوال ہی کافی تھا، اسی کو سنبھال لیں تو بڑی بات ہے۔ باقی آپ کے ساتھ بے شمار قائدین، ناظمین، منتظمین بیٹھے ہوئے ہیں اور ماشاء اللہ کینیڈا کی جماعت بھی بڑی ہے، مجالس بھی 110 ہیں، ظاہر ہے ہر ایک سے انفرادی طور پر تو اب ملنا مشکل ہے، اگر آپ علیحدہ علیحدہ کوئی میٹنگیں کر رہے ہوتے تو شاید سب کا انفرادی طور پر تعارف بھی ہو جاتا، کبھی موقع ملا تو وہ بھی کر لیں گے۔ لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ انصار اللہ کینیڈا کو توفیق دے کہ وہ صحیح رنگ میں اپنے فرائض ادا کرنے کی کوشش کریں نیز اپنے بچوں ، اپنی نسلوں اور جماعت کے جو حقوق ان پر ہیں، ان کو ادا کرنے کی کوشش کریں۔ یہ سارے کام بغیر قربانی کے نہیں ہو سکتے۔ بغیر اپنے آپ کو کسی مشکل میں ڈالے نہیں ہو سکتے ۔ ہر اچھے کام کے لئے چھوٹی موٹی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے۔