سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 39
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 7 میں ٹی وی پر ناچ کئے جاتے ہیں۔ یہ کیوں پھیلا ؟ صرف اس لئے کہ برائی پھیلانے والے باوجو د دنیا کے شور مچانے کے ، کہ یہ برائی ہے، برائی پھیلانے پر استقلال سے قائم رہے اور دنیا کی باتوں کی کوئی پروا نہیں کی۔ آخر ایک وقت میں یہ کام میں یہ کامیاب ہو گئے۔ اب تو پاکستان جو مسلمان ملک ہے اُس کے ٹی وی پر بھی تفریح کے نام پر، آزادی کے نام پر بیہودگیاں نظر آتی ہیں، ننگ نظر آتا ہے۔ گویا برائی اپنے استقلال کی وجہ سے دنیا کے ذہنوں پر حاوی ہو گئی ہے۔ پس اس کے مقابلے پر آنے کے لئے بہت بڑی منصوبہ بندی اور قربانی کی ضرورت ہے۔ اگر یہ نہ ہوئی تو پھر ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ قوت ارادی اور قوت عملی ہی دو بنیادی چیزیں ہیں پس بہت سوچنے اور غور کرنے اور محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ اُن چیزوں کو اپنانے کی ضرورت ہے جن کو اپنا کر ہم یہ روکیں دُور کر سکتے ہیں، جن کو استعمال میں لا کر ہمارے اندر یہ رو کیں دور کرنے کی طاقت پیدا ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے ہم برائیوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس کے حصول کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑے عمدہ رنگ میں وضاحت فرمائی ہے کہ اگر عملی اصلاح کے لئے یہ باتیں انسان میں پیدا ہو جائیں تو تبھی کامیابی مل سکتی ہے اور یہ تین چیزیں ہیں۔ نمبر ایک قوتِ ارادی، نمبر دو صحیح اور پورا علم اور نمبر تین قوتِ عملی۔ لیکن اصل بنیادی قوتیں دو ہیں۔ قوتِ ارادی اور قوت عملی۔ جو چیز ان دونوں کے درمیان میں رکھی گئی ہے یعنی صحیح اور پورا علم ہونا، یہ دونوں بنیادی قوتوں پر اثر ڈالتی ہے۔ علم کا صحیح ہونا قوتِ عملی پر بھی اثر ڈالتا ہے اور قوتِ ارادی پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 440 خطبه فرمودہ 10 جولائی 1936 مطبوعہ ربوہ ) بہر حال پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ قوتِ ارادی اور قوتِ عملی ہی دو بنیادی چیزیں ہیں جو عملی اصلاح پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس کے لئے ہمیں قوت ارادی کو زیادہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اور قوتِ عملی کے نقص کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا ارادہ اگر کسی برائی کو روکنے کا مضبوط ہو تو تبھی وہ برائیاں رک سکتی ہیں اور ارادے کی مضبوطی اُس وقت کام