سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 398 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 398

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 366 بچوں کو ایک confidence ہونا چاہیے ہم جو شیئر کریں گے ، ماں باپ ہماری بات پیار سے سنیں گے اگر آپ نے اپنے بچوں اور اپنی نسلوں کو سنبھالنا ہے تو بیماری بھی آپ کو پتا ہے اور یہ بھی کہ اس کا علاج کیا ہے کہ اس گیپ کو کم کیا جائے۔ یہ تو ہر ایک گھر ، اپنے ماحول میں ہر ایک کو اپنے حساب سے تربیت کرنی پڑے گی، بچوں کو قریب لانا پڑے گا۔ ایک بچہ سات سے دس سال تک ماں باپ سے attach رہتا ہے، اگر ماں اور باپ دونوں اسی طرح اس attachment کو جاری رکھیں اور بڑے ہونے کے بعد جب بچہ باہر کھیلنے کے لئے جاتا ہے اس وقت بھی، جب گھر آئے تو اس سے باتیں شیئر کریں کہ اچھا تم نے کیا کیا، کس طرح کھیلے، کون کون سے لوگوں سے ملے ، کیا باتیں ہوئیں۔ ان کو ایک confidence ہونا چاہیے ہم جو شیئر کریں گے ، ماں باپ ہماری بات پیار سے سنیں گے اور پھر ہم سے اس کے متعلق discussion بھی کریں گے اور اگر کہیں کوئی سمجھانے والی بات ہوئی تو سمجھا بھی دیں گے۔ یہ نہیں کہ میں کوئی ہوائی باتیں کر رہا ہوں۔ ایسے ماں باپ ہیں جو اس طرح کرتے ہیں اور پھر ان کے بچے رابطے میں بھی رہتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ سکولوں میں اتنی دیر کھلاتے ہیں یا باہر جا کر بچے اثر لے کر آجاتے ہیں، اگر تو گھر کا ماحول ایسا ہو کہ پر امن ہو اور ماں باپ کے ساتھ بچوں کو یہ احساس ہو کہ ہمارا دوستی کا رشتہ ہے علاوہ ماں باپ کے رشتے کے ، تو وہ بہت ساری باتیں شیئر بھی کرتے ہیں اور وقت بھی گھر میں گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بچوں کے لئے ایک ماحول پیدا کریں جہاں وہ satisfied ہوں یہاں مغربی دنیا میں 365 دنوں میں سے 170 maximum دن سکولوں میں ہوتے ہیں، باقی وقت تو بچے آپ کے پاس ہوتے ہیں۔ اس میں سے آپ کہہ دیں کہ بچے باہر اپنے دوستوں سے کھیلنے چلے گئے تو روزانہ دو گھنٹے کے لئے چلے گئے۔ اگر ایک بچہ چھ گھنٹے ہی باہر رہتا ہے یا آٹھ گھنٹے باہر رہتا ہے تو وہ ماں باپ کی غلطی ہے۔ کیوں باہر رہتا ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ وہ