سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 392
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 360 دو دینی حالت کی بہتری اور جماعت سے اپنی نسلوں کو جوڑے رکھنے کیلئے بھی فکر ہونی چاہیے پیارے ممبر ان مجلس انصار اللہ ناروے السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ مجلس انصار اللہ ناروے کو اپنا سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ہر لحاظ سے بہت بابرکت فرمائے۔ آمین مجھ سے اس موقع پر پیغام بھجوانے کی درخواست کی گئی ہے۔ میر اپیغام یہ ہے کہ آج ہم پر اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ ہم دوسرے مسلمان فرقوں کی طرح بکھرے ہوئے نہیں بلکہ خلافت کی برکت کی وجہ سے ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ اگر ہم تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اپنی اور اپنے بچوں کی اصلاح کی طرف نظر رکھیں گے، اور اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو اس نظام کا حصہ بنائے رکھیں گے جو اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا تو ہم بھی اس رحمت اور فضل کے حاصل کرنے والے بن جائیں گے جو خدا تعالیٰ نے جماعت کے لئے مقدر کئے ہوئے ہیں اور ہم بھی اور ہماری نسلیں بھی انشاء اللہ تعالیٰ فتوحات دیکھیں گی۔ جس طرح بچوں کی دنیاوی بہتری کے لئے بڑی عمر کے لوگوں کو فکر ہوتی ہے، بڑا تر ڈد ہوتا ہے اسی طرح اسے دینی حالت کی بہتری اور جماعت سے اپنی نسلوں کو جوڑے رکھنے کے لئے بھی فکر ہونی چاہیے۔ پس یاد رکھنا چاہیے کہ جماعتی ترقی ہمارے اپنے بچوں کی تربیت سے وابستہ نہیں ہے بلکہ ہماری اور ہماری نسلوں کی بقا ہر حالت میں جماعت سے جڑے رہنے سے وابستہ ہے۔ انصار اللہ کی عمر میں انسان اپنی پختگی کی عمر کو پہنچ جاتا ہے اور سوچ میں گہرائی پیدا ہو جاتی ہے اور جب یہ صورت ہو تو اس عمر میں پھر آخرت کی فکر بھی ہونی چاہیے ۔ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے ایمانوں کو مضبوط کریں اور اپنی نسلوں میں وہ ایمان پیدا کریں اور کرنے کی کوشش کریں