سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 38
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 6 ہزاروں میل دور کی برائی بھی ہر گھر میں الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ پہنچ گئی ہے جیسا کہ میں گزشتہ ایک خطبہ میں بتا چکا ہوں، آجکل دنیا سمٹ کر قریب تر ہو گئی ہے، گویا ایک شہر بن گئی ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے ایک محلہ بن گئی ہے ، ہزاروں میل دور کی برائی بھی ہر گھر میں الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ پہنچ گئی ہے اور ہر ملک کی جو خواہ ہزاروں میل دور ہے، اچھائی بھی ہر گھر تک پہنچ گئی ہے۔ مجموعی لحاظ سے ہم دیکھیں تو برائی کے پھیلنے کی شرح اچھائی کے پھیلنے کی نسبت بہت زیادہ تیز ہے۔ پھر جیسا کہ میں پہلے بھی کئی موقعوں پر ذکر کر چکا ہوں، اچھائی اور برائی کا معیار بدل گیا ہے۔ ایک چیز جو اسلامی معاشرے میں برائی ہے، دنیا دار معاشرے میں جواب تقریبالا مذہب معاشرہ ہے ، اس میں وہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کو ہم برائی سمجھتے ہیں۔ یہ ان کے نزدیک بہت معمولی سی چیز ہے بلکہ اچھائی سمجھی جانے لگی ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مثال دی ہے کہ مغربی معاشرے میں ناچ کا رواج ہے۔ یہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں تو اتنا عام نہیں تھا یا کم از کم اس کے لئے خاص جگہوں پر جانا پڑتا تھا۔ آج کل تو ٹی وی اور انٹر نیٹ نے ہر جگہ یہ پہنچا دیا ہے اور بعض گھروں میں ہی تفریح کے نام پر ناچ کے اڈے بن گئے ہیں اور بعض گھر یلو فنکشنز پر بھی یہ ناچ وغیرہ ہوتے ہیں۔ خاص طور پر شادیوں کے موقع پر تفریح اور خوشی کے نام پر بیہودہ ناچ کئے جاتے ہیں۔ ایک احمدی گھر کو اس سے بالکل پاک ہونا چاہیے ۔ اس پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بہر حال میں حضرت مصلح موعودؓ کے حوالے سے بات کر رہا تھا کہ آپ نے فرمایا کہ اب مغربی ملکوں میں ناچ کا رواج ہے مگر پہلے اسے لوگ برا سمجھتے تھے ،اب آہستہ آہستہ اسے لوگوں نے اختیار کرنا شروع کر دیا۔ پہلے عورت مرد ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر ناچتے تھے۔ پھر ایک دوسرے کے قریب منہ کر کے ناچنے لگے اور پھر یہ فاصلے کم ہونے لگے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 432 خطبه فرمودہ 3 جولائی 1936 مطبوعہ ربوہ ) جیسا کہ میں نے کہا کہ اب تو ناچ کے نام پر بیہودگی کی کوئی حد نہیں رہی۔ ننگے لباسوں