سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 388 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 388

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 356 کوئی ناراض ہو گیا۔ اگر صحیح تعارف ہو تو کم از کم جو ارد گرد کا ماحول ہے، آپ کی مساجد کا ماحول ، اس میں کوئی نہ کوئی تعارف تو اچھا ہو۔ ہمسایوں کی طرف سے تو آپ محفوظ ہوں گے ۔ یہ تو نہیں کہ پاکستان والے حالات ہوں کہ ہر وقت خطرہ ہی رہے کہ کس وقت مولوی یہاں آ کے حملہ کر دے۔ آپ کے ہاں یہ ہے کہ کس وقت کوئی شرارتی اٹھ کے حملہ کر دے۔ ساری تنظیموں کو اکٹھے مل کے کام کرنا ہو گا تا کہ جماعت کا تعارف بڑھے اور تعارف اس لحاظ سے بڑھے کہ جماعت ایک پر امن جماعت ہے اور ہم محبت اور پیار کی تبلیغ کرتے ہیں۔ اس کے بعد پھر اگلی بات آئے گی کہ اسلام کی سچائی کے کیا ثبوت ہیں ، اسلام سچا مذہب ہے اور مسیح موعود کی آمد ہوئی کہ نہیں۔ یہ بعد کے مسائل ہیں۔ پہلے اپنا تعارف تو کروائیں کہ آپ کون ہیں۔ ہر دفعہ مختلف جگہوں پہ تعارف ہونا چاہیے قائد صاحب تبلیغ کے عرض کرنے پر کہ یہاں ہمسایوں کو بلا کر سوال و جواب کی نشست منعقد کی جاتی ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ دس، ہیں، پچیں ہمسائے آجاتے ہیں۔ آپ کو تو مختلف مساجد کے ذریعہ ایک ایک علاقہ میں ہر ہفتے چار سو بندوں کو تعارف کروانا چاہیے اور ہر دفعہ مختلف جگہوں پہ تعارف ہونا چاہیے۔ ایک ہی جگہ پمفلٹ نہ تقسیم کرتے رہیں یا تعارف کرواتے رہیں۔ پھر بازاروں میں کھڑے ہو کر بھی لٹریچر دیں جس طرح سائیکل سفر والوں کو میں نے کہا ہے وہ تقسیم کریں۔ اسی طرح شعبہ تبلیغ کے ساتھ اکٹھے پروگرام بنائیں، اگر coordinated پرو گرام ہو تو بہت سارے کام ہو سکتے ہیں۔ ایک دن، ہفتہ یا مہینہ میں کوئی دن بنائیں جہاں سارے آسٹریلیا میں تعارف ہو جائے۔ پھر پریس میں بھی آپ کا کوئی تعارف آجائے۔ پھر شعبہ ایثار کے ساتھ مل کر خدمت خلق کے کام کی اخباروں میں پبلسٹی کریں۔ اس لئے نہیں کہ ہم نے کام کیا، اس لئے کہ جماعت کا تعارف ہو جائے۔ تو اس طرح قائدین آپس میں مل کے بھی پروگرام بنا سکتے ہیں اس طرح زیادہ سے زیادہ انصار کی involvement ہو گی۔