سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 387 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 387

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 355 حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مزید توجہ دلائی کہ انصار کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبات جمعہ سننے کی طرف توجہ دلائی جائے۔ کم از کم پچیس فیصد عاملہ ممبران تو داعیان الی اللہ ہونے چاہئیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے استفسار فرمایا کہ عاملہ کے ممبر ان میں سے کتنے داعیان الی اللہ میں شامل ہیں؟ اس پر موصوف نے عرض کی کہ ان کے علاوہ کوئی نہیں۔ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ صدر صاحب کو شامل کریں۔ اس میں کم از کم پچیس فیصد عاملہ ممبران تو داعیان الی اللہ ہونے چاہئیں۔ دوسروں کو اس حوالے سے کس طرح نصیحت کریں گے۔ قائد تربیت، قائد تعلیم یہ شعبے خاص طور پر اس کے علاوہ صدر صاحب، نائب صدر صاحب، معاون صدران، یہ سب داعیان بن سکتے ہیں ، ان کے پاس اور تو کوئی کام ہوتا نہیں۔ کچھ نہیں تو ہاتھ میں چھوٹا سا پمفلٹ پکڑ کے نکل جایا کریں اور تقسیم کر کے آجایا کریں۔ ویک اینڈ پہ ایک گھنٹہ بھی دیں تو کچھ نہ کچھ لوگوں کو تعارف تو پہنچا دیں گے کہ اسلام کیا کہتا اور اس کی کیا تعلیم ہے۔ ضروری تو نہیں کہ تبلیغ صرف یہی ہے کہ بڑے بڑے مسائل بیان کرنے ہیں۔ صرف یہ بتادیں کہ اسلام کی کیا خوبیاں ہیں۔ اسلام کے بارے میں جو غلط تصور پیدا ہو گیا ہے اس کو دور کرنے کے لئے چھوٹے چھوٹے brochure بنا کے تقسیم کرتے رہا کریں۔ ایک تبلیغ کا رستہ کھلتا ہے پھر اس سے رابطے بڑھتے ہیں، اس طرح اگر کریں تو آپ کے تو ساٹھ ستر فیصد داعیان بن سکتے ہیں ، ہاں جو خاص تبلیغ کرنے والے ہیں وہ علیحدہ ہیں۔ ابھی تو ایک فیصد آسٹریلین لوگ بھی نہیں جانتے کہ جماعت احمد یہ کیا ہے آسٹریلیا میں آپ کو کوئی جانتا ہی نہیں۔ ابھی تو ایک فیصد آسٹریلین لوگ بھی نہیں جانتے کہ جماعت احمد یہ کیا ہے۔ عام مسلمانوں کا تصور قائم ہو کر آپ لوگوں کو اکثر مسجدوں میں پتھر ہی پڑتے رہتے ہیں ۔ کبھی کسی مسجد میں حملہ ہو گیا، کبھی کسی مسجد میں ہمسائے ناراض ہو گئے ، کہیں کو نسلر ناراض ہو گئے، کہیں میئر ناراض ہو گیا، کہیں politicians ناراض ہو گئے ، کہیں