سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 383 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 383

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 351 لیکن ہمارا معاشرہ یہ ہے کہ والدین کی خدمت کرنی چاہیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری ماں کا تم پہ حق ہے۔ تمہاری ماں کا تم پہ حق ہے۔ تمہاری ماں کا تم پر حق - ہے۔ پھر تمہارے باپ کا تم پہ حق ہے۔ “ تو یہ حق ادا کر نے ضروری ہیں اور یہی اسلامی معاشرہ کہتا ہے۔ اس صورت میں کہ ماں باپ بوڑھے ہوں تو اول یہ کہ بچوں کی تربیت ایسی ہونی چاہیے کہ وہ بچوں کو کہیں کہ ہم تمہاری جوانی میں تمہاری خاطر تمہیں علیحدہ کر رہے ہیں یا تم ہمارے سے علیحدہ ہو رہے ہو ، ٹھیک ہے رہو، لیکن اگر ہمیں بڑھاپے میں تمہاری ضرورت پڑے تو تم نے ہمارے کام آنا ہے۔ اوّل تو ہم دعا کرتے ہیں کہ ہمیں تمہاری ضرورت ہی نہ پڑے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری محتاجی سے ہمیں بچائے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ ارْذَلِ العُمُرِ سے بچ کر رہنے کی دعا کرو تا کہ ایسی محتاجی نہ ہو۔ لیکن اگر بڑھاپا ہو اور ایسی صورت حال ہو کہ ماں باپ کو رکھنا پڑے تو پھر ہمارا یہ اخلاقی اور مذہبی فرض بنتا ہے کہ ماں باپ کی خدمت کی جائے، ان کو رکھا جائے اور ایسے حالات میں بہو کو بھی اپنے ساس سسر کو برداشت کرنا چاہیے۔ اور اگر گھر چھوٹے ہیں تو قریب کوئی اور گھر لے لیں۔ یہاں کو نسلیں مدد کرتی ہیں ان کو نسل کی مدد سے قریب گھر لیا جا سکتا ہے۔ پھر صبح شام ان کے پاس جائیں اور خدمت کر لیں۔ یہی ایک علاج ہے جو آپ کر سکتے ہیں۔ اور اگر بڑے گھر ہیں تو اس کے ایک کمرے میں رکھ لیں اور خدمت کر لیں تو ثواب ہے۔ اگر آخرت کی زندگی کی بھی فکر ہے، اگر اپنی عاقبت کی بھی فکر ہے اور مذہب کی کچھ سدھ بدھ ہے تو پھر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان چیزوں کا ثواب ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا اجر ہے۔ ہم نے بھی مرنا ہے اور ہمارے ساتھ بھی یہی ہونا ہے۔ اس لئے ہم اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اپنے بڑوں کی خدمت کریں۔ feedback اور تجاویز لی جائیں کہ کس قسم کے پروگرام منعقد ہونے چاہئیں ایک ناصر نے عرض کیا کہ جب مجلس انصار اللہ کا کوئی پروگرام منعقد کیا جاتا ہے تو اس سے کافی عرصہ قبل ممبران کو اطلاع دی جاتی ہے اور پروگرام کو دلچسپ بنانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود حاضری میں کمی رہتی ہے۔