سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 382 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 382

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 350 ہم دنیا کو سمجھائیں اور بتائیں کہ اس کے کیا کیا بد اثرات ہو رہے ہیں پھر دوسرا یہ کہ ہم دنیا کو سمجھائیں اور بتائیں کہ اس کے کیا کیا بد اثرات ہو رہے ہیں۔ اگلی نسل کے لئے ہم کیا چھوڑ کے جائیں گے۔ اس لئے اپنے لئے اتنا لالچ نہ کرو کہ سب کچھ ہی آپ لے لینا ہے ، اگلی نسل کے لئے بھی کچھ چھوڑ کر جاؤ۔ بہتر ہے کہ ان سے کہا کریں کہ بیٹے تم اپنے گھر جاؤ اور اپنا علیحدہ گھر لو ایک ناصر نے سوال کیا کہ عموماً بچوں کی شادی کے بعد انہیں اسلامی تعلیم کے مطابق الگ گھر میں رہنے کی ترغیب دلائی جاتی ہے اور پھر وہ اپنی خود مختار زندگی گزارنے کے عادی ہو جاتے ہیں لیکن جب والدین کو بڑھاپے میں بچوں کے ساتھ رہنا پڑے تو انہیں والدین کو اپنے ساتھ رکھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ گھر بھی چھوٹے ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں حضور انور سے راہنمائی کی درخواست ہے کہ اس صورت حال میں کس طرح والدین کی خدمت کی جاسکتی ہے ؟ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ اسلامی تعلیم کا کیا سوال ہے؟ یہاں جو عیسائی، دہر یہ ، لامذہب یا کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہیں وہ کون ساوالدین کے ساتھ رہتے ہیں؟ ان کی کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ شادی ہوئی تو علیحدہ رہیں۔ بہتر یہی ہے کہ بجائے اس کے گھر میں مسائل پیدا ہوں نندوں بھا بھیوں کی لڑائی ہو یا ساس بہو کی لڑائی ہو آپ خود کہہ رہے ہیں کہ گھر چھوٹے ہیں تو ایک اور فیملی کو رکھ کے مصیبت ڈالنی ہے۔ تو بہتر ہے کہ ان سے کہا کریں کہ بیٹے تم اپنے گھر جاؤ اور اپنا علیحدہ گھر لو۔ والدین کی خدمت کرنی چاہیے اگلا سوال ہوا کہ اگر ماں باپ بوڑھے ہوتے ہیں۔ مغربی ملکوں نے تو یہ علاج نکال لیا کہ ماں باپ بوڑھے ہوتے ہیں تو old people's house میں ان کو جمع کر ادو اور ہفتے کے بعد بیٹا یا بیٹی ان کو جاکر السلام علیکم وعلیکم السلام کر آئے، تھوڑی سی کھیر پکا کے دے آئے اور اس نے کھالی اور خوش ہو گئی کہ میرے بچے نے میرا خیال رکھا ہے اور باقی وقت نرسیں سنبھال رہی ہیں۔