سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 381 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 381

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 349 درخت کٹ گئے ، ان کے جنگل ختم ہو گئے۔ تو خود انہوں نے اپنی اکانومی کو تو تباہ کیا۔ پھر پانی کو ریز رو کرنے کے لئے جو ڈیم بنانے چاہئیں تھے انہوں نے نہیں بنائے اور الزام لگا دیا کہ یہ یورپ اور مغربی ممالک کی pollution نے کیا۔ ہاں انڈسٹریل revolution یا صنعتی انقلاب نے بھی اثر ڈالا اور اثر انداز ہو رہا ہے۔ اسی لئے چین نے کہا کہ ترقی یافتہ مغربی ممالک نے اپنی انڈسٹری کو اتنا develop کر لیا جس کی وجہ سے ہوا میں pollution ہوئی اور گلوبل وارمنگ شروع ہوئی، اب ہمیں کہتے ہو کہ تم رکو۔ ہم تو نہیں رکیں گے ہم بھی اب پچاس سال تک اسی طرح اپنی انڈسٹری چلائیں گے۔ پھر دیکھیں گے کہ رکنا ہے کہ نہیں۔ انڈیا بھی یہی کہتا ہے۔ یہ چیزیں اب ساتھ ساتھ چلیں گی ، ان کو برداشت کرنا پڑے گا۔ ایک درخت کاٹتے ہو تو دو درخت لگاؤ ہمارے اختیار میں یہی ہے کہ جن علاقوں میں احمدی رہتے ہیں یا جن جگہوں پہ ہمارا کچھ اثر ہے کم از کم ان کو یہ کہیں کہ جو زمین تم جنگلوں سے خالی کر رہے ہو وہاں جنگلات اور درخت تو لگاؤ۔ ایک درخت کاٹتے ہو تو دو درخت لگاؤ۔ آبادی کے تناسب سے اگر زمین صاف کرنی ہے تو اول تو اس میں ایسا infrastructure بناؤ کہ تھوڑے علاقے میں زیادہ آبادی آباد ہو اور اچھی فارمنگ سے، زراعت کے لئے بھی اچھی پلاننگ سے ہو سکتی ہے۔ پھر افریقہ میں بہت وسیع علاقہ پڑا ہوا ہے جہاں جنگل نہیں ہیں اور وہاں فارمنگ کر سکتے ہیں۔ ان کو آباد کر کے وہاں سے اس ملک کے لئے بھی اور دنیا کے لئے بھی خوراک مہیا کر سکتے ہیں۔ اگر امیر ممالک وہاں کوشش کریں اور علاقے develop کریں تو بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارا کام تو یہی ہے کہ ان لوگوں کو سمجھاتے رہیں، بتاتے رہیں کہ جہاں خالی جگہیں ہیں ان کو آباد کرو، فارمنگ کے لئے استعمال کرو، جنگلوں کو کم کاٹو ، کاٹتے ہو تو مزید لگاؤ اور جہاں سارے پہاڑ منڈ کر دیئے ہیں ان علاقوں پر مزید محنت کرو۔ ہم خود زیادہ سے زیادہtree plantation میں حصہ لیں اور اپنے زیر اثر لوگوں کو بھی کہیں کہ اگر ہم خالی جگہوں پہ جہاں پہلے درخت ہوتے تھے لاکھوں کروڑوں درخت لگانے شروع کر دیں تو ایک حد تک ہم اس کے بداثرات کو کم کر سکتے ہیں۔