سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 380 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 380

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 348 فرمایا کہ گلوبل وارمنگ سے آپ کو کیا فرق پڑا ہے؟ جس پر موصوف نے عرض کی کہ نہیں پڑا۔ directly اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ آپ کہتے ہیں directly نہیں پڑا۔ موسم اتناchange ہو رہا ہے اور طوفان آرہے ہیں۔ کہیں بارشیں ہو رہی ہیں، کہیں برفیں پڑ رہی ہیں، کہیں off season ایسی باتیں ہو رہی ہیں۔ پھر اس کی وجہ سے دنیا کی اکانومی پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ آپ کے اپنے ملک میں مہنگائی بڑھ گئی ہے اور آپ کہتے ہیں کہ مجھ پر directly کوئی اثر نہیں ہوا؟ بات یہ ہے کہ جس طرح دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے اس کے لئے زمین درکار ہے اور ظاہر ہے کہ جب زمین کی ضرورت ہو گی تو جہاں جنگل ہیں ان کو زمینوں کو آباد کرنے اور خوراک پیدا کرنے کے لئے کاٹنا ہو گا۔ خوراک پیدا کرنے کے لئے ، فارمنگ کے لئے زرعی زمین چاہیے۔ ایک بات یہ ہے کہ اس میں ہمیں ایک نسبت رکھنی ہو گی۔ اب ترقی یافتہ ممالک نے ایک شرط رکھی ہے کہ ہم نے 20 فیصد یا 30 فیصد یا 40 فیصد زمین کو جنگلوں کے اندر رکھنا ہے۔ اگر یہ اسی طرح maintain کریں تو ٹھیک ہے۔ افریقہ میں جنگل کاٹتے جارہے ہیں اور نئے نہیں لگا رہے۔ غریب ممالک پاکستان وغیرہ ان میں جنگل کاٹ رہے ہیں اور نئے نہیں لگا ر ہے تو اس سے بھی ایک موسم میں تبدیلی آتی ہے اور ماحولیاتی کیفیت بدلتی ہے۔ اب جب پاکستان میں بارشیں ہوئیں اور flood آیا تو یہ الزام دیتے ہیں کہ مغرب تو پھر مغرب پہ pollution آئے۔ مغرب کی flood کی وجہ سے ہمارے ہاں pollution کی بھی اثر انداز ہونی چاہیے تھی، لیکن تم نے اپنے ملک میں کیا کیا؟ پہلے راولپنڈی سے نکلتے تھے تو مری کی طرف گھوڑا گلی کی طرف جانے سے پہلے آپ کو جنگل ہی جنگل نظر آتے تھے۔ اب اس طرف آبادی تو اتنی نہیں ہوئی لیکن ٹھیکیداروں نے جنگل کاٹ کے نئے جنگل نہیں لگائے۔ کوئی درخت نہیں۔ سوات میں جائیں تو وہاں درخت کٹ گئے اور پہاڑی علاقوں میں جائیں تو وہاں