سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 37 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 37

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 5 ہمارے غالب آنے کا ایک بہت بڑا ہتھیار عملی اصلاح بھی ہے پس اگر ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مشن میں کارآمد ہونا ہے، آپ کے مقصد کو پورا کرنے والا بننا ہے تو یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ہم میں سے ہر ایک اپنی عملی اصلاح کی روکوں کو دور کرنے کی بھر پور کوشش کرے۔ کیونکہ یہ عملی اصلاح ہی دوسروں کی توجہ ہماری طرف پھیرے گی اور نتیجہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کی تکمیل میں ممد و معاون بن سکیں گے۔ پس ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس کے حصول کے لئے ہم نے کیا کرنا ہے؟ کیونکہ ہمارے غالب آنے کا ایک بہت بڑا ہتھیار عملی اصلاح بھی ہے۔ ہماری اپنی اصلاح سے ہی ہمارے اندر وہ قوت پیدا ہو گی جس سے دوسروں کی اصلاح ہم کر سکیں گے۔ ہمارے غالب آنے کا مقصد کسی کو ماتحت کرنا اور دنیاوی مقاصد حاصل کرنا تو نہیں ہے۔ بلکہ دنیا کے دل اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لاکر ڈالنا ہے۔ لیکن اگر ہمارے اور دوسروں میں کوئی فرق نہیں ہے تو دنیا کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ ہماری باتیں سنے۔ پس ہمیں اپنی عملی قوتوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اور پھر مضبوطی کے ساتھ اس پر قائم رہنے کی ضرورت ہے۔ خود دوسروں سے مرعوب ہونے کی بجائے دنیا کو مرعوب کرنے کی ضرورت ہے آجکل جبکہ دنیا میں لوگ دنیا داری اور مادیت سے مرعوب ہو رہے ہیں، ہمیں پہلے سے بڑھ کر اپنی حالتوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ نظریں رکھتے ہوئے اپنے آپ کو دنیا کے رعب سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ اور دنیا کو بھی ان شیطانی حالتوں سے نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے والے ہم بن سکیں اور دنیا کی اکثر آبادی بن سکے۔ لیکن اس کے راستے میں بہت سی رو کیں ہیں۔ اس کے لئے ہم نے اپنے اندر ایسی طاقت پیدا کرنی ہے کہ ان روکوں کو دور کر سکیں۔ ہمیں دنیا کے مقابلے کے لئے بعض قواعد تجویز کرنے ہوں گے جو ہم میں سے ہر ایک اپنے اوپر لاگو کرے اور پھر اُس کی پابندی کرے۔ اس کے لئے ہمیں اپنے نفسوں کی قربانی دینی ہو گی اور ایک ماحول پیدا کرنا ہو گا۔ جب تک ہمیں یہ حاصل نہیں ہو تا، ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔