سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 378 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 378

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 346 کرتا۔ آپ نے نمونہ دیکھ لیا کہ کس طرح انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر دیئے لیکن اپنے ایمان سے نہیں ہٹے۔ اسی طرح بعض اور نوجوان ہیں جن کو دھمکیاں مل رہی ہیں کہ یہ کرو نہیں تو ہم یہ کر دیں گے۔ میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں جو برکینا فاسو کے بارے میں تھا مثال بھی دی تھی کہ ایک نوجوان نے کہا کہ تم کہتے ہو تصویریں کیوں لگاتے ہو، میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اور تصویریں لگاؤں گا۔ تو یہ ان کے ایمان کی پختگی پچھلی ہے۔ دہریت کے خلاف بھی تمہیں جہاد کرنا پڑے گا یورپ میں تو ویسے ہی دہریت پھیل رہی ہے اور مذہب کے خلاف ایک باقاعدہ مہم ہے۔ آج کل مختلف قسم کی حرکتیں شروع ہوئی ہوئی ہیں ، عورت مرد کی آزادی کے نام پہ ، مختلف gender کی آزادی کے نام پر جس کو یہ مختلف نام دیتے ہیں یا دوسرے ناموں پہ۔ گو بعض جگہ یہ ا صحیح ہیں لیکن جہاں مذہب کے ساتھ آزادی کے نام پہ یہ باتیں کرتے ہیں یا مذہبی تعلیم کے خلاف آزادی کے نام پہ باتیں کرتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ یہ دہریت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک بڑی سکیم ہے۔ صرف یہی نہیں کہ ہمارے سے مذہبی مخالفت ہو گی بلکہ ہمیں دہریت کا بھی مقابلہ کرنا پڑے گا۔ دہریت کی طرف سے بھی مخالفت ہو گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صرف یہ نہیں لکھا کہ میں مثیل مسیح کے طور پر آیا ہوں اس لئے عیسائیت کے خلاف میرا اجہاد ہے۔ آپؐ نے مسلمانوں کو بھی ہدایت دینی تھی اور عیسائیوں کو بھی ہدایت دینی تھی بلکہ آپ نے کہا کہ ایک زمانہ آئے گا، اور اب آگیا ہے، جب لوگ خدا تعالیٰ کو ہی بھول رہے ہیں۔ اس لئے دہریت کے خلاف بھی تمہیں جہاد کرنا پڑے گا۔ اب وہ زمانہ ہے کہ ہمیں دہریت کے خلاف اپنے لٹریچر کو مضبوط کرنا ہو گا، اپنے دلائل مضبوط کرنے ہوں گے اور اس حوالے سے اپنی باتوں میں زیادہ سے زیادہ زور پیدا کرنا ہو گا کیونکہ عیسائیت کو تو لوگ بھول چکے ہیں۔