سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 377 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 377

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 345 حاسدین کی تعداد بھی بڑھتی ہے، وسوسے ڈالنے والوں کی تعداد بڑھتی ہے اور پھر جہاں ان کو موقع ملتا ہے وہ ظلم سے بھی دریغ نہیں کرتے اور یہی کچھ جماعت احمد یہ سے ہوا۔ یہ سے ہوا۔ پہلے ہندوستان میں ہوا جب پاکستان ہندوستان ایک تھا۔ اس وقت احراری شور مچاتے تھے۔ حالانکہ اس وقت برٹش گورنمنٹ تھی لیکن بعض مواقع ایسے آئے کہ انگریز افسران جماعت کی مخالفت کرتے تھے۔ یہ ہماری تاریخ سے ثابت ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے خلاف مقدمے کرتے رہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف مقدمے ہوتے رہے اور فساد پیدا ہونے کی بھی کوشش ہوتی رہی۔ پھر پاکستان ہندوستان بنا تو پاکستان میں کیونکہ جماعت کی تعداد زیادہ تھی وہاں شروع سے ہی پہلے 53ء کے فساد ہوئے۔ پھر اس کے بعد 74ء کے واقعات ہوئے 84ء میں ہمارے خلاف قانون مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی اور پھر جو تبدیلیاں کر سکتے تھے ، جو ان کے بس میں تھا، وہ کرتے رہے اور اب تک کر رہے ہیں۔ حاسدین جماعت کی ترقی دیکھ کر یہ کر رہے ہیں اور کریں گے اور یہی کچھ الہی جماعتوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ اس ۔ اس لئے ہمیں ہر وقت تیار رہنا چاہیے ۔ ہندوستان میں بھی مولویوں نے آج کل سر اٹھانا شروع کیا ہوا ہے۔ آج کل وہاں بھی نئے سرے سے مولویوں کا گروپ ختم نبوت کے نام پہ احمدیوں کے خلاف مختلف چھوٹے قصبوں میں، جہاں جماعت تھوڑی تعداد میں ہے، وہاں فساد پیدا کرنے یا مار دھاڑ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہاں بھی اکا دکا واقعات ہو رہے ہیں اور اسی طرح جب باہر نکلتے ہیں تو باہر بھی ہوں گے۔ افریقہ میں کیونکہ جماعت پھیل رہی ہے اور پاکستانی مولوی بھی وہاں ۔ جاتا ہے، ختم نبوت یا وہابیت کی تعلیم کے نام پر بعض عرب ملک اپنا روپیہ بھی لگاتے ہیں۔ برکینا فاسو میں مسلمان زیادہ تر وہابی ہیں۔ بہر حال وہ پیسہ لگا رہے ہیں اور یہ سارا فتنہ اور فساد کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس طرح ہم سختی سے جماعت کو دبا لیں گے لیکن جو شخص احمدی ہوتا ہے، خود اسلام قبول کرتا ہے اور اپنے ایمان میں پختہ ہے وہ ان چیزوں کی پرواہ نہیں