سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 374 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 374

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 342 خلافت احمد یہ کے تحت ہمارے نظام میں یک جہتی ہے اور ایک وجود آپ کی راہنمائی کرتا ہے ایک ناصر نے سوال کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد نظام خلافت اسلام کی تجدید اور اشاعت کے لئے کس قدر ضروری ہے؟ نیز ہم اشاعت اسلام میں کیسے محمد ثابت ہو سکتے ہیں اور خلیفہ وقت کے ساتھ ہم کیسے اچھا تعلق پیدا کر سکتے ہیں ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی تھی کہ ایک ہزار سال کے تاریک عرصے کے بعد مسلمانوں میں مسیح موعود کی آمد ہو گی اور وہ مسیح موعود اور مہدی ہونے کا دعویٰ کرے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے متعلق یہ الفاظ بیان فرمائے کہ ان کا مقام خلیفۃ الرسول کا ہو گا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہیں اور اس کے بعد یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی تھی کہ اسلام کے پیغام کی اشاعت کے لئے نظام خلافت جاری رہے گا کیونکہ یہی موزوں وقت تھا کہ جب اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے تمام ذرائع میسر تھے۔ اب آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میڈیا اور دیگر ذرائع میسر ہیں اور خلافت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نقش قدم پر چل کر کام کرے گی اور آپ کے ذریعہ اسلام اور احمدیت کا پیغام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا۔ پھر یہ ایک منظم نظام ہو گا۔ دوسرے فرقوں میں آپ کو یہ نظام نہیں ملے گا۔ یہاں خلافت کے ماتحت اسلام احمدیت کا پیغام دنیا کے سارے کناروں تک پہنچارہا ہے۔ مختصراً اس لئے اس کی ضرورت ہے۔ ورنہ اگر آپ کے پاس ایک قیادت نہیں ہے تو آپ ایک ریوڑ کی طرح ہیں جس کی دیکھ بھال کے لئے کوئی مقرر نہ ہو۔ پس خلافت احمد یہ کے تحت ہمارے نظام میں یک جہتی ہے اور ایک وجود آپ کی راہنمائی کرتا ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ اس پر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور راہنمائی نازل ہوتی ہے۔ اور جب بھی وہ ضروری سمجھتا ہے کہ فلاں کام ہونا چاہیے تو وہ جماعت کو