سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 36
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 4 بندے کا خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑنا اور اعمال کی اصلاح کرنا بھی ضروری ہے «گزشتہ دو جمعوں سے پہلے میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے خطبات کی روشنی میں چند خطبے عملی اصلاح کے بارے میں دیئے تھے اور بعض اسباب بیان کئے تھے جو عملی اصلاح میں روک کا باعث بنتے ہیں اور یہ بھی ذکر ہو گیا تھا کہ اگر ہم نے من حیث الجماعت اپنی عملی اصلاح کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے ہیں تو ان روکوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ بات بھی واضح کر دی گئی تھی کہ عمل کے متعلق ہماری روکیں عقائد کی روکوں سے زیادہ سخت ہیں۔ اس حوالے سے آج میں مزید کچھ کہوں گا۔ یادرکھو کہ صرف لفاظی اور لسانی کام نہیں آسکتی جب تک کہ عمل نہ ہو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مشن اور بعثت کا مقصد صرف عقائد کی اصلاح کرنا نہیں تھا۔ آپ نے واضح فرمایا ہے کہ بندے کا خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑنا اور اعمال کی اصلاح کرنا بھی ضروری ہے اس چیز کے لئے آپ تشریف لائے ہیں۔ بندے کا ایک دوسرے کے حق ادا کرنا بھی ایک مقصد ہے اور یہ سب باتیں اعمال پر منحصر ہیں۔ نیک اعمال بجالا کر خدا تعالیٰ کا بھی حق ادا ہوتا ہے اور بندوں کا بھی حق ادا ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا تھا، پہلے بھی میں کئی دفعہ یہ چیزیں بیان کر چکا ہوں۔ فرمایا کہ یاد رکھو کہ صرف لفاظی اور لسانی کام نہیں آسکتی جب تک کہ عمل نہ دو ہو۔“ (ملفوظات جلد 1 صفحہ 48۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پھر ایک موقع پر فرمایا: دو اپنے ایمانوں کو وزن کرو۔ عمل ایمان کا زیور ہے۔ اگر انسان کی عملی حالت درست نہیں ہے تو ایمان بھی نہیں ہے۔“ (ملفوظات جلد 1 صفحہ 249۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ )