سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 367 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 367

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 335 اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ انفرادی طور پر کیا کر سکتے ہیں ؟ بچوں کو بھی میں کہہ چکا ہوں عورتوں کو بھی کہہ چکا ہوں کہ انفرادی طور پر آپ لوگ tree plantation کریں۔ درخت لگائیں۔ کاربن emission کی طرف توجہ کریں۔ زیادہ سے زیادہ کوشش یہ کریں کہ کم سے کم آپ کی کاروں اور دوسری چیزوں کا استعمال ہو۔ یہ تو انفرادی طور پر آپ کا کام ہے۔ خود بھی تھوڑے فاصلے پر جانا ہو تو بجائے کاروں یا موٹر سائیکلوں پہ جانے کے پیدل چلے جائیں، سائیکل استعمال کریں اور plantation زیادہ کریں۔ یہ تو ظاہری چیزیں ہیں۔ باقی حکومتوں کا کام ہے کہ plantation کریں اور انڈسٹری کو بھی اس طرح آرگنائز کریں کہ کم سے کم کاربن emission ہو۔ اب چین کہتا ہے کہ یورپ اور امریکہ نے جو پچھلے پچاس ساٹھ سال carbon emission کی ہے اور انڈسٹریل ترقی کی ہے ہم اس سے پچاس ساٹھ سال پیچھے ہیں ہم بھی اتنا کریں گے پھر دیکھیں گے کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔ تو ہر ایک اپنا اپنا مفاد چاہتا ہے۔ سیاسی طور پر یا ملکی سطح پر تو پھر لوگ اس طرح اپنا مفاد دیکھتے ہیں۔ باقی ہر چیز کو ہم نے سیاست ہی بنالیا ہے۔ اب کہتے ہیں پاکستان میں flood آئے تو پاکستان کا اس میں کیا قصور ہے۔ یہ موسمی تبدیلی ہو رہی ہے۔ یہ تو ویسٹ ، یورپ اور ترقی یافتہ ملکوں کے carbon emission اور موسم میں تبدیلی کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ پاکستان نے کیا کردار ادا کیا ؟ پاکستان نے اپنے سارے جنگل کاٹ دیئے۔ اپنے ذاتی مفادات کے لئے ٹھیکیداروں اور سیاستدانوں نے مل کے سوات کے پہاڑوں کو ٹنڈ کر دیا مری کے علاقے کے پہاڑوں کو ٹنڈ کر دیا۔ ناران کاغان کے پہاڑوں کو ٹھنڈ کر دیا۔ سارے علاقے تباہ کر دیئے۔ پھر ڈیم نہیں بنائے۔ harvest کے لئے طریقے تھے جو استعمال میں نہیں لائے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو عقل دی تھی اس کے مطابق کرتے تو یہ لوگ بہت بڑی تباہی سے بچ سکتے تھے۔ اس کا الزام صرف ویسٹ کے اوپر دے دینا کہ ویسٹ نے یہ نہیں کیا درست نہیں۔ خود ہمارا اپنا بھی قصور ہوتا ہے۔ بہر حال سیاسی طور پہ تو ہر ایک ملک میں خود غرضی پیدا ہو چکی ہے۔ ایک انڈسٹریل