سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 368
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 336 ڈویلپمنٹ جہاں ہو رہی ہے وہاں انڈیا کہے گا ہماری تو انڈسٹریل ترقی ہو رہی ہے ہم اب کیوں کم کریں۔ چائنا کہتا ہے ہم کیوں کم کریں اور دوسرے اوپر آنے والے کوئی ملک ہیں وہ کہتے ہیں ہم کیوں کم کریں۔ ویسٹ نے کیونکہ یہ ترقی کر لی ہے، ایک مقام پہ پہنچ گیا ہے، یہ کہتے ہیں کہ کم کرو اور یہ بھی کم نہیں کر رہا۔ یہ جہاں ٹکے ہوئے ہیں کہتے ہیں ہم تو یہاں تک گئے ، ہم اس سے زیادہ نہیں کریں گے، تم کم کرو۔ ترقی پذیر ممالک کہتے ہیں کہ تم مغربی ممالک اس سے زیادہ کیوں نہیں کرو گے ؟ تم بھی پھر کم کرو۔ تو یہ سیاسی طور پہ سارا چکر ہے۔ باقی جو آپ کی کوششیں ہو سکتی ہیں وہ یہی ہیں کہ جیسا میں نے کہا کہ انفرادی طور پر اگر ہر کوئی realise کرلے اور اس کی طرف توجہ دے کہ کم سے کم کاروں کا استعمال ہو اور زیادہ سے ہو۔ tree plantation زیادہ پھر جو جنگیں ہو رہی ہیں یہ بھی تو ایک تباہی ہے۔ یہ بھی تو ماحول میں گرمی پیدا کر رہی ہیں۔ ان سے carbon emission ہو رہی ہے۔ آگیں لگ رہی ہیں ۔ فساد ہو رہے ہیں ۔ یہ ساری چیزیں شامل ہیں تو آپ کیا کر سکتے ہیں ؟ انفرادی طور پر جو چھوٹی موٹی کوشش کر سکتے ہیں وہ کر لیں۔ ہم تو چھوٹی سی جماعت ہیں۔ چھوٹی سی جماعت کے اپنے ماحول میں جو کر سکتے ہیں کریں شاید آپ کو دیکھ کر دوسرے لوگ اثر پکڑیں اور پھر یہ پھیلتی جائے جاگ لگتی جائے اور پوراملک اس بات کو realise کر لے اور وہ اس طرف توجہ کرنا شروع کر دیں۔ تو ہر ملک میں ہم چھوٹے پیمانے پر کوشش ہی کر سکتے ہیں اور پھر لوگوں کو بتائیں کیونکہ اصل کوشش تو اس ملک کی آبادی نے کرنی ہے ۔ آپ کی تو کسی بھی ملک میں 0۔01 فیصد آبادی ہے۔ تو کیا کر سکتے ہیں ؟“ ملاقات مجلس انصار الله سوئٹزر لینڈ 13 ینڈ 13 نومبر 2022ء الفضل انٹر نیشنل 25 نومبر 2022ء صفحہ 1-2و18)