سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 366 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 366

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 334 صحابی کا قصہ آیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہی تنبیہ کی کہ تم سردار کے ساتھ بیٹھے ہو، اس کے پیچھے پڑے ہوئے ہو تمہیں کیا پتا اس نے مسلمان ہونا ہے کہ نہیں ہونا اور جو اخلاص سے آیا ہے اس کو تم چھوڑ رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اور بھی بہت جگہ مختلف حوالوں سے مثالیں دی ہیں۔ یہ مثالیں دے کر اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کر دیا کہ تمہارا کام پیغام پہنچانا ہے ، پہنچاؤ اور باقی ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ آپس میں تم لوگ اپنے آپ کو سنبھالو۔ آپس میں زیادہ محبت پیار اور بھائی چارہ پیدا کرو تو پھر جماعت میں اکائی اور unity قائم ہو گی اور اس بھائی چارہ کے بعد جو آپ کوشش کریں گے وہ انفرادی کوششیں نہیں ہوں گی وہ جماعتی کوششیں ہوں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ ان میں برکت بھی ڈالے گا۔ آپ باہر لوگوں میں تبلیغ کر رہے ہیں، پیغام پہنچا رہے ہیں، بڑا اچھا پیغام پہنچارہے ہیں لیکن اندر آپس میں بہت ساری رنجشیں پیدا ہوئی ہوئی ہیں۔ ایک دوسرے کے متعلق باتیں کرنے سے نہیں چوکتے۔ بلا وجہ کی کدورتیں دل میں آئی ہوئی ہیں ۔ ان کو بھی دور کریں۔ ایک ہوں ، اکائی ہوں پھر کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ اس میں برکت بھی ڈالتا ہے۔ پھر دعا کریں اور پھر اکٹھے ہو کے دعا کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ اس میں برکت بھی ڈالے گا۔ ہاں یہ اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا کہ تمہارا کام پیغام پہنچانا ہے۔ تم پہنچائی جاؤ۔ اگر تم پیغام نہیں پہنچاؤ گے تو تمہارے سے پوچھا جائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ کہیں نہیں کہا کہ کسی سے اگر بیعت نہ ہوئی تو تم ضرور پوچھے جاؤ گے۔ ہاں اللہ تعالیٰ برکت ڈالتا ہے جس طرح باقی کاموں میں بھی برکت ڈالتا ہے۔ محنت اور دعا میں جب اللہ تعالیٰ برکت ڈالتا ہے تو تبلیغ کے کاموں میں بھی برکت ڈالے گا۔ تو ہمارا کام یہی ہے۔ انفرادی طور پر آپ لوگ tree plantation کریں۔ درخت لگائیں ایک ناصر نے سوال کیا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے متعلق جو اس وقت انسانیت کے در پیش مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں حضور سیاسی لیول پر کیا راہنمائی کر سکتے ہیں اور انفرادی طور پر ہم کیا کر سکتے ہیں ؟